1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراق میں تیز رفتار ٹرین کا پلان اور عوامی خدشات

جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ ملک عراق میں شہروں کی تعمیر نو کے لیے برسوں درکار ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے اربوں ڈالر کے بلٹ ٹرین منصوبے کو متعارف کروانے پر عام لوگ شکوک کا شکار ہیں۔

default

عراقی حکومت کئی ارب ڈالر سے جاپانی طرز پر ایک تیز رفتار بلٹ ٹرین کا نیٹ ورک بچھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے پر کافی عراقی باشندوں نے خوشی کے ساتھ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کیونکہ  ان کو بجلی کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔

دس بلین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس ریلوے منصوبے سے بغداد کو دوسرے جنوبی صوبوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ کئی  سالوں تک جنگ کی صورت حال کے بعد عراقی حکومت کی طرف سے بلٹ ٹرین کا پراجیکٹ ملکی تعمیر نو کی راہ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

عراق میں ملک کے تقریبا ہر شعبے میں ہی ترقی کی ضرورت ہے،جہاں 8 سال سے  زیادہ عرصے تک جاری  رہنے والی جنگ اور 2003ء میں صدام حسین  کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے بنیادی ڈھانچہ تقریباً نا مکمل دکھائی دیتا ہے۔ شہروں اور قصبوں میں تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ عراقی باشندے بےروزگاری، کھانے پینے کی اشیا کی  قلت ، سکیورٹی خدشات، پانی کی شدید کمی اور گرڈ اسٹیشن سے دن بھر میں کچھ گھنٹوں کے لیے بجلی کی سپلائی پر مایوسی کا شکار ہیں۔

دارالحکومت بغداد کی سٹرکیں بُری طرح تباہ ہو چکی ہیں، بموں کی وجہ سے عمارتیں بھی شکستہ حال ہیں۔ احمد صالح، جو ایک تعمیراتی انجینئر ہیں، کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی پہلے سے شروع منصوبوں کو پورا نہیں کیا اور  تیز ترین ٹرین چلانے  کا ارادہ رکھتی ہے، تین سال سے ایئرپورٹ کی سڑک خراب حالت میں ہے اور عدم توجہ کا شکار ہے۔

Irak Kirkuk Anschlag Terror Terroranschlag Anschlagserie 15.08.2011

عراق میں تقریبا ہر شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے

بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں عراقی حکومت خوش خیالی میں ہے۔ بغداد حکومت اس سے انکاری ہے  کہ فنڈز کی کمی، تکنیکی صلاحیتیں  اور خون ریزی کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں دشواری کا سامنا ہے۔ روز روز کے بم دھماکوں  اور قتل و غارتگری کی وجہ سے سکیورٹی پر حکومت کثیر سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔

ملک میں تیل کی سرمایہ کاری کے کافی مواقع بھی ہیں۔ لیکن  سرمایہ کاری کے راستے میں بیوروکریسی حائل ہے۔ اندرونی سیاسی چپقلش کی وجہ سے بجلی، ٹیلی فون اور دوسرے کئی  منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ عراق کے اسٹریٹجیک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ نگار یحیی کوبائسی کا کہنا ہے کہ حقیقت میں ان منصوبوں پر عملدرآمد ناممکن ہے، یہ صرف حکومت کا خواب ہے۔

بغداد حکومت  فرانسیسی انجینئرنگ گروپ Alstom کے ساتھ ساڑھے چھ سو کلو میٹر لمبی ریلوے لائن بچھانے کی ایک مفاہمت پر دستخط کر چکی ہے۔ حکومت کے ایک اور بڑے منصوبے میں بغداد شہر کے لیے زیر زمین میٹرو  بھی شامل ہے۔ الصدر کے علاقے میں ڈیڑھ لاکھ فلیٹوں کی تعمیر بھی حکومت کا ایک خواب ہے۔ عراق کے پلاننگ کے وزیر علی الشکری کا کہنا ہے کہ تمام پراجیکٹس بہت شاندار ہیں لیکن سب سے اہم مسئلہ سرمائے کا ہے۔

رپورٹ:  سائرہ ذوالفقار

ادارت:  عابد حسین

DW.COM