1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں ترک فوج کی نئی مداخلت

عراقی حکام کے مطابق تقریباً تین سو ترک فوجی شمالی عراق میں داخل ہوگئے ہیں۔ ترک فوج کاکہنا ہے کہ مقصد شمالی عراق میں علیحدگی پسند کرد باغی تنظیم PKK کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح کارکنوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

عراق میں کرد باغیوں کی ایک پناہ گاہ

عراق میں کرد باغیوں کی ایک پناہ گاہ

عراقی حکام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ہلکے اسلحہ سے لیس تقریباً تین سو ترک فوجی شمالی عراق کے کرد اکثریتی صوبے Dahuk میں داخل ہوگئے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی براہ راست جھڑپ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی دو روز قبل اتوار کے دن ترک فضائیہ نے بھی انہی کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔

ترکی نے تاحال اپنی اس تازہ فوجی مداخلت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم انقرہ میں حکام متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں مسلح علیحدگی پسندکردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ترک کابینہ نے ملکی فوج کو عراقی کرد علاقوں میں داخل ہوکر باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت پہلے ہی دے رکھی ہے۔

عراقی صدر جلال طالبانی سے منسوب ایک ویب سائٹ کے مطابق عراق میں اب تک سات سو ترک فوجی داخل ہوچکے ہیں۔ترک فوج کی اس مداخلت کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔اسی کشیدگی کے تناظرمیںامریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے شمالی عراق کے تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقے کرکوک کا دورہ بھی کیا۔عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے وزیر خارجہ رائس کے دورے کی تصدیق کردی ہے۔اس سے قبل کونڈولیزا رائس نے امریکی صدر جورج ڈبلیو بش کے ہمراہ اسی سال ستمبرمیں عراقی صوبے انبار کا دورہ کیا تھا۔

کردستان ورکرز پارٹی 1978 میں وجود میں آئی تھی۔ 1984 میں اس باغی جماعت نے علیحدگی پسند کردوں کی اپنی ایک ریاست کے قیام کے لئے مسلح کارروائیاں شروع کردی تھیں۔ امریکہ اور یورپی یونین PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ کرد باغیوں کی اس پارٹی کو اپنی خونریز کارروائیوں میں کل قریب 40 ہزار انسانوں کو ہلاک کردینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ کرد باغیوں کی مجموعی تعداد تین ہزارکے قریب ہے اور تاحال بغداد حکومت ان کی کارروائیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

حالیہ کارروائی سے پہلے 1995میں بھی ترک فوج نے مسلسل چھ ہفتوں تک شمالی عراق میں پناہ لینے والے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کیا تھا لیکن تب اس آپریشن کا فوجی مقصد پورا نہیں ہو سکا تھا۔ پھر 1997 میں بھی 15 ہزار ترک فوجی شمالی عراق میں داخل ہوگئے تھے اور مسلح کردوں کے خلاف دوبارہ کارروائی کی گئی تھی۔ شمالی عراق میں کرد باغیوں پر الزام ہے کہ وہ عراق اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقے کے علاوہ ترک ریاست کے وسطی حصے میں بھی مسلح کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔