1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں برطانوی فوجی مشن کا باضابطہ خاتمہ

جمعہ 31 جولائی کو عراق ميں برطانوی فوج کی جنگی کارروائياں سرکاری طور پر ختم کی جا رہی ہيں۔ جنوبی عراق کے فوجی اڈے بصرہ کی کمان، برطانوی فوج نے مارچ ہی ميں امريکہ کے حوالے کردی تھی۔

default

عراق ميں برطانوی فوج کی جنگی کارروائياں سرکاری طور پر ختم کی جا رہی ہيں

عراق ميں مارچ 2003 سے تعينات تقریبا چار ہزار برطانوی فوجيوں ميں سے ايک بڑی تعداد واپس وطن جا چکی ہے۔اس چھ سال سے زائد عرصے ميں ايک سو اناسی فوجيوں کی جانيں ضائع ہوئيں۔

اب جنوبی عراقی شہربصرہ ايک بار پھر عراقی فوج کے کنٹرول ميں ہے۔ مبصرين کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کی صورتحال نسبتا کم کشيدہ ہے۔ آزاد خيال روزنامے شط ا لعرب کے مدير اعلی عبدا لمنان الدراوی کا کہنا ہے:’’چار سو برطانوی فوجی اور افسر ابھی تک بصرہ ميں موجود ہيں۔ ان کے ذمے، نئے عراقی فوجيوں، خاص طور پر سلامتی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فوجيوں کو تربيت دينا ہے۔‘‘

انہوں نے برطانوی فوجيوں کے متعلق عراقی شہريوں کے تاثرات بيان کرتے ہوئے کہا :’’برطانيہ کو عراقی عوام کے ساتھ معاملات کاتجربہ ہے۔ پچھلی صدی کی تاريخ سے وہ جانتے ہيں کہ عراقيوں کے دل کس طرح جيتے جاسکتے ہيں۔‘‘

حقيقت يہ ہے کہ مقامی لوگوں ميں سے بہت کم ہی کو برطانوی فوجيوں کے برتاؤ کے بارے ميں کوئی شکايت ہے، حالانکہ ان کی اکثريت غير ملکی فوجيوں کی عمومی مخالف ہے۔

US Truppen in Irak Soldat spricht mit irakischen Schülern

مقامی لوگوں ميں سے بہت کم ہی کو برطانوی فوجيوں کے برتاؤ کے بارے ميں کوئی شکايت ہے

امريکی فوجيوں کے برعکس برطانوی فوجی، عراقی اسلامی معاشرے کا احترام کرتے ہيں۔ وہ فوجی گاڑيوں ميں سفر کرتے وقت بھی اپنے لئے کسی قسم کی مراعات نہيں چاہتے اور دوسروں ہی کی طرح ٹريفک سگنل کی سرخ روشنی پر گاڑياں روک ليتے ہيں۔

عراق کے دوسرے حصوں ميں تعينات امريکی فوجيوں کا برتاؤ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ ان کی فوجی گاڑيوں سے ايک سو ميٹر دور رہنا ضروری ہے ورنہ وہ گولی چلا ديتے ہيں۔ اسی لئے بصرہ والے يہ سن کر پريشان ہوگئے تھے کہ کچھ عرصے کے لئے امريکی فوجيوں کو بصرہ ميں تعينات کيا جارہا تھا۔ ليکن دلچسپ بات يہ ہے کہ جب امريکی فوجی بصرہ ميں آئے تو انہوں نے بھی برطانوی فوجيوں ہی کی طرح کا طرزعمل اپنا ليا۔

بصرہ کے لوگوں نے عام طورپر برطانوی فوجيوں کے طرزعمل کی تعريف ہی کی۔ انہوں نے سياسی معاملات ميں بہت کم مداخلت کی، تمام متعلقہ گروپوں کو اکٹھا کرکے ان سے بات چيت کی اور شہر کے غريب علاقوں ميں اسپورٹ اور بچوں کے کھيل کی جگہيں تعمير کيں۔

اب امريکی فوجی بھی بصرہ سے جاچکے ہيں، ليکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ، بجلی اور پانی کی کمی ہے جو اب بھی موجود ہے۔ شط العرب کے پانی کی سطح بہت گر چکی ہے، جس کی وجہ يہ ہے کہ ترکی اور شام نے دجلہ اور فرات کے درياؤں پر بہت سے بند تعمير کر لئے ہيں جن سے بہت کم پانی ان درياؤں ميں بہہ رہا ہے۔ ايران نے بھی شط العرب ميں گرنے والے چھوٹے درياؤں پر بند تعمير کئے ہيں۔

جائزہ : حسن حسین شہاب احمد صدیقی

ادارت : مقبول ملک