1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکی مقاصد

امریکہ عراق میں اپنی فوجوں کے ساتھ کتنے عرصے تک موجود رہے گا؟ اِس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ بغداد میں اپنا جو سفارت خانہ تعمیر کر رہا ہے، وہ دنیا بھر میں امریکہ کا سب سے بڑا سفارت خانہ ہے۔

default

عراق میں دنیا کے سب سے بڑے امریکی سفارتخانے اور درجنوں جنگی ہوائی اڈوں کی تعمیر کا آخر مقصد کیا ہے؟

جب تک جارج ڈبلیو بش برسرِ اقتدار ہیں، عراق سے امریکی فوجی انخلاء کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ بش انتظامیہ ابھی تک نہ صرف عراق سے امریکی دستوں کی واپسی کے خلاف ہے بلکہ وہ تو ایسی کسی فوجی واپسی کے لیئے کوئی تاریخ مقرر کئے جانے کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے دوجوازمہیا کئے گئے تھے۔ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ، اور وسیع تر تباہی کا باعث بن سکنے والے اُن کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش، جن کا بعد میں کسی کو بھی کوئی نام و نشان تک نہ ملا۔ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے لئے اب یہ دونوں جواز ختم ہو چکے ہیں۔

اسی لئے امریکہ عراق میں اپنی مستقل فوجی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے عراقی حکومت کے ساتھ 31 جولائی تک Status of Forces Agreement کے نام سے ایک باقاعدہ سمجھوتہ طے کرنا چاہتا تھا مگر بغداد حکومت کے ساتھ اختلافات کے باعث یہ معاہدہ طے نہ پاسکا۔

امریکہ عراق میں اپنی فوجوں کے ساتھ مجموعی طور پر کتنے عرصے تک موجود رہے گا؟ اِس کاکافی حد تک اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ بغداد کے گرین زون میں اپنا جو سفارت خانہ تعمیر کر رہا ہے، وہ دنیا بھر میں امریکہ کا سب سے بڑا سفارتخانہ ہو گا۔ یہ سفارت خانہ اور اُس سے ملحقہ علاقہ گرین زون کہلانے والے حفاظتی علاقے میں ایک ایسا ہائی الرٹ زون ہوگا، جس کے قیام اور سفارت خانے کی تعمیر پر اربوں کی لاگت آئے گی۔ امریکہ عراق میں اپنے درجنوں ایسے فوجی اور فضائی اڈے تعمیر کرنے میں بھی مصروف ہے، جنہیں مستقبل قریب اور بعید میں، عسکری ضروریات کے باعث مکمل طور پر،زیر استعمال رکھا جائے گا۔ واشنگٹن عراق میں ایسے درجنوں اڈوں کی تعمیر سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ سرکاری طور پر امریکی حکام اس سوال کے جواب میں محض خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم عراقی شہر عُر کے نواح میں، طلیل کے مقام پر اپنا جو فضائی اڈہ قائم کیا ہے، وہ پورے مشرق وسطٰی میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اس کے علاوہ کئی ارب ڈالر کی لاگت سے ایک اور امریکی فوجی اڈہ عراقی شہر بلاد میں تعمیر کیا گیا ہے، جہاں 40 ہزار تک فوجی تعینات کئے جا سکتے ہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لئے موجودہ سیاسی مہم کو مد نظر رکھا جائے تو ڈیموکریٹ امیدوار، باراک اوبامہ عراق سے امریکی فوجی انخلاء کے وعدے کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف عراق ہی میں، امریکہ ایسے بہت سے طویل ا لمدتی اقدامات کرتا بھی نظر آتا ہے، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن غالبا، آئندہ کئی عشروں تک عراق سے نکلنے والا نہیں!