1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں مزید کمی

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ عراق متعین افواج کی تعداد 31 اگست تک کے طے شدہ ہدف پچاس ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے عراق میں جنگی مشن 31 اگست کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

default

عراق میں امریکی جنگی مشن 31 اگست کو ختم کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے

منگل کو امریکی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم ستمبر سے جنگی مشن Operation New Dawn میں تبدیل ہوجائے گا جو دسمبر 2011ء تک جاری رہے گا۔ اس دوران امریکی افواج عراقی سکیورٹی اہلکاروں کو معاونت فراہم کرتی رہیں گی جس کے بعد وہاں سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء ہوگا۔

Parlamentseröffnung im Irak

عراق کے شیعہ وسنی فرقے اور کرد آبادی کے درمیان حکومت سازی کےعمل میں جمود برقرار

2003ء میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے حکم پر عراق پر حملہ کیا گیا تھا جس کی ایک وجہ وہاں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی بتائی گئی تھی۔ عراق پر طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی بعث پارٹی کی حکومت میں وہاں فرقہ ورانہ خانہ جنگی کے دوران ایک لاکھ سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ امریکی حملے کے نتیجے میں بغداد میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی وہاں امریکی افواج کا Combat Mission جاری رہا۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں امریکہ کے لگ بھگ ساڑھے چار ہزار فوجی مارے گئے ہیں۔ سات سال سے زائد عرصہ جاری رہنے والے اس مشن کے دوران بڑی تعداد میں عام عراقی شہری بھی بدامنی کے واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔

بش کے پیش رو، موجودہ امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عراق مشن کا خاتمہ کرکے فوج کو واپس امریکہ بلوالیں گے۔ اسی سلسلے میں 30 جون کو امریکی افواج نے عراق کے شہروں اور دیہاتوں سے انخلاء شروع کردیا تھا۔ جنوری 2009ء میں طے پانے والے دو طرفہ معائدے کے بعد سے عراق متعین امریکی افواج کی جانب سے وہاں یکطرفہ کاروائی نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجے میں وہاں موجود لگ بھگ 1 لاکھ 76 ہزار فوجیوں کی تعداد میں بتدریج کمی کا سلسلہ شروع ہوا۔

Saddam Hussein

صدام حسین کے دورِحکومت میں عراق میں ایک لاکھ سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں

دوسری جانب رواں سال مارچ میں عراق میں پارلیمانی انتخابات کے بعد سے اب تک وہاں سیاسی بحران قائم ہے۔ عراق کے شیعہ وسنی فرقے اور کرد آبادی کے نمائندہ سیاستدان حکومت سازی میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ انتخابات میں سیکولر نظریات کے حامل سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کو معمولی برتری حاصل ہوئی تھی تاہم کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی اور ایاد علاوی کے مابین مذاکراتی سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس