1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکی فوجی کب تک رہیں گے

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے امید ظاہر کی ہے کہ آج عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی کے مستقبل سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

default

دوسری جانب امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن عراق پہنچ چکے ہیں۔ مائیک مولن چاہتے ہیں کہ رواں برس کے اختتام پر 47 ہزار امریکی فوجیوں کی عراق میں تعیناتی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے کسی نئے معاہدے تک پہنچا جائے۔

پینٹاگون کے مطابق مولن کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم ڈیڈ لائن کے بہت قریب ہیں۔ ہمیں کسی جواب کی ضرورت ہے۔‘‘مولن بغداد پہنچنے سے پہلے گزشتہ روز شمالی شہر موصل کے مضافات میں قائم امریکی فوجی اڈے پر اترے تھے۔

Irak Mullen

مولن گزشتہ روز شمالی شہر موصل کے مضافات میں قائم امریکی فوجی اڈے پر اترے تھے

امریکہ نے عراقی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر فیصلہ کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عراقی رہنما فیصلہ کریں کہ وہ امریکی فوج کو رواں برس کے بعد بھی عراق میں رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ گزشتہ ماہ لیون پنیٹا کے دورہ عراق میں بھی یہی مطالبہ دہرایا گیا تھا۔

کیا امریکی فوج کو فوجی تربیتی مقاصد کے لیے ملک میں رہنا چاہیے، عراقی رہنما ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں۔ مولن کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران نوری المالکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عراق کے سیاسی رہنما آج ایک اجلاس کے دوران فیصلے تک پہنچ جائیں گے۔

مولن کے ساتھ پیر کو بات چیت میں وزیراعظم نے آج کے اجلاس کے نتائج سے قطع نظر دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل تعاون بڑھانےپر زور دیا تھا۔

ہفتے کے روز المالکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے 36 امریکی ایف سولہ جیٹ طیارے خریدنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ عراقی حکومت کی طرف سے ایسا ہی ایک فیصلہ رواں برس کے آغاز میں بھی کیا گیا تھا۔ تاہم ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے باعث حکومت کو یہ فیصلہ موخر کرنا پڑا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ رقم اسلحہ خریدنے کی بجائے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM