1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکی فوجوں کے خلاف ریلی

نو اپریل کو عراق میں امریکی فوجی مشن کو آٹھ برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اسی روز سے عراق میں امریکی فوج کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس تناظر میں گزشتہ روز ایک بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا گیا۔

default

عراقی شہر موصل میں منعقدہ اس ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے اور اسے امریکی فوجوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین عراق میں امریکی فوجوں کی مدت تعیناتی میں کسی قسم کی توسیع کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ضلعی افسران اور قبائلی عمائدین نے بھی اس ریلی میں حصہ لیا۔

مزید یہ کہ تقریباً 5 ہزار افراد نے پر امن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھا اور اس کسی دوران کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مظاہرین کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس سال کے آخر میں اپنے اختتام پر پہنچنے والے امریکی فوجی مشن میں توسیع نہ کی جائے۔

قریب پانچ ہزار افراد نے پر امن طریقے سے احتجاج کیا

قریب پانچ ہزار افراد نے پر امن طریقے سے احتجاج کیا

امریکی صدر باراک اوباما نےگزشتہ بر س عراق میں فوجی مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد امریکی فوجی دستے عراق سے نکل گئے تھے۔ اس کے باوجود پچاس ہزار امریکی فوجی ابھی تک عراقی دستوں کو تربیت دینے کے غرض سے وہاں تعینات ہیں۔ تربیت دینے کے علاوہ خصوصی ہدایات پرکام کرنے والے یہ دستے عراق میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی کر رہے ہیں۔

موصل منعقدہ اس ریلی میں شریک بدرانی قبیلے کے سربراہ الشیخ برزان البدرانی نے بتایا کہ ’’ہم حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہ توسیع کا خیال بھی ذہن میں نہ لائے اور نہ ہی ایسی کوشش کرے‘‘۔ البدرانی نے مزید کہا کہ ان کے دیگر مطالبات میں قیدیوں کو رہائی، اصلاحات اور بدعنوانی کا خاتمہ شامل ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کے دوران بغداد اور عراق کے دوسرے شہروں میں بھی امریکی فوجیوں کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ ان میں سخت گیر موقف رکھنے والے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے پیروکار بھی شریک تھے۔ مقتدٰی الصدر نے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجیں رواں سال31 دسمبر کے بعد بھی عراق میں رہیں تو ان کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM