1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکہ کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں، بائیڈن

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے آج پیر کے روز ایک بار پھرعراق کے متحارب سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک میں ایک نئی حکومت کے قیام کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں۔

default

جو بائیڈن ایاد علاوی سے ملاقات کرتے ہوئے

امریکی نائب صدر نے، جو اپنے تین روزہ دورہء عراق کے آخری روز آج ملکی دارالحکومت بغداد میں ہیں، کہا کہ عراق میں گزشتہ عام انتخابات کو کئی مہینے ہو چکے ہیں مگر وہاں سیاسی رہنماؤں کے مابین اختلافات کے باعث نئی ملکی حکومت ابھی تک قائم نہیں ہو سکی۔

امریکی نائب صدر نے عراقی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک متحارب عراقی سیاستدان اپنے ذاتی کے بجائے قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت سازی کے لئے کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچیں گے، تب تک نہ تو عراق پرامید طریقے سے مستقبل کی طرف دیکھ سکے گا اور نہ وہ اپنے موجودہ سیاسی جمود سے باہر آ سکے گا۔

جو بائیڈن نے پیر کو بغداد میں عراقی صدر جلال طالبانی سے بھی ملاقات کی جس سے پہلے داخلی انتشار کے شکار اس ملک کے موجودہ صدر نے صحافیوں کے بتایا کہ جو بائیڈن عراق کے دوست ہیں اور ان کے ساتھ ہر موضوع پر کھل کر بات کی جائے گی۔

Irakische Proteste gegen iranische Besetzung eines Ölfeldes

جوبائیڈن کی آمد پر مختلف عراقی شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے

آج ہی صدر طالبانی کے ساتھ ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی نائب صدر بائیڈن نے عراق میں شیعہ مسلمانوں کی اعلیٰ ترین تنظیم سپریم عراقی اسلامی کونسل کے رہنما اور شیعہ لیڈر عمار الحکیم کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے موقع پر عراق میں امریکی سفیر کرسٹوفر ہل اور اس ملک میں امریکی فوجوں کے اعلیٰ کمانڈر جنرل Ray Odierno بھی موجود تھے۔

جو بائیڈن نے اپنے موجودہ دورہء عراق کے دوسرے روز کل اتوار کو سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کے ساتھ بھی ملاقات کی تھی۔ عراق کے اس سابق سربراہ حکومت کی قیادت میں العراقیہ نامی سیاسی بلاک کو سات مارچ کو ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے سیاسی اتحاد پر معمولی سے برتری حاصل ہوئی تھی اور اسی لئے علاوی ابھی بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بغداد میں نئی حکومت قائم کرنے کا حق انہی کے سیاسی اتحاد کو دیا گیا ہے۔

عراقی رہنماؤں کے ساتھ اپنی انہی ملاقاتوں میں جو بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کا عراق میں کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب اس جنگ کا کامیاب خاتمہ چاہتا ہے جو صدام حسین کی وجہ سے سن 2003 میں شروع ہوئی تھی۔

جو بائیڈن نے کہا: ’’میری آپ سے درخوست ہے کہ تناؤ ختم کیا جائے۔ ایک نئی عراقی حکومت کے قیام کی اس طرح مکمل حمایت کریں کہ وہ مستقبل میں اس ملک کو بہتری کی طرف لے کر جائے۔اس لئے کہ اس ملک میں آئندہ العراقیہ، سٹیٹ آف لاء، عراقی نیشنل الائنس اور کردستان الائنس سمیت سبھی سیاسی جمہوری قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ان میں سے ہر ایک کا کردار بہت اہم ہو گا۔‘‘

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM