1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں امریکہ مخالف مزاحمت جاری رہے گی، الصدر

عراق میں با اثر شیعہ مذہبی سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ عراق کے تمام مبینہ قابضین کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں۔

default

الصدر نے نجف میں ہزاروں افراد کے مجمعے پر زور دیا کہ امریکی فوج کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھیں مگر ضروری نہیں کہ اس کے لئے اسلحے کا استعمال کیا جائے۔

مقتدیٰ الصدر چار سال پڑوسی ملک ایران میں خودساختہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد عراق لوٹے ہیں۔ وہ 2006ء کے دوران اُس وقت عراق چھوڑ گئے تھے جب اُن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔

نجف میں اپنے ہزاروں پُرجوش حامیوں کے اجتماع سے خطاب میں الصدر نے کہا کہ وہ اب بھی مبینہ قابضین کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ طے شدہ ڈیڈ لائن، یعنی رواں سال کے آخر کے بجائے، فی الفور عراق سے نکل جائے۔

Iran Soldaten - Golden lions

کرکوک شہر میں تعینات عراق فوج کا ایک اہلکار

بغداد اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت اس وقت 50 ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں۔ یہ فوجی جنگی مشن کے خاتمے کے بعد عراقی سکیورٹی دستوں کی تربیت اور دیگر غیر جنگی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نجف میں الصدر کے گھر کے باہر ان کےحامیوں کا جم غفیر عراقی پرچم اور اُن کی تصاویر اٹھائے موجود تھا۔ شیعہ رہنما نے اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ کو ’مشترکہ دشمن‘ قرار دیا۔ الصدر نے عراقی حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوے کہا کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے وفا کرے اور امریکی افواج کے انخلاء کو یقینی بنائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر بغداد حکومت عوامی فلاح و بہبود میں ناکام رہی تو وہ حکومت کی حمایت تَرک کردیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں سمیٹنے والے، الصدر کے متعدد حامیوں کو عراقی پارلیمان میں واضح نمائندگی حاصل ہے۔ 325 کے پارلیمان میں الصدر کے 39 ارکان موجود ہیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی کے دوبارہ انتخاب میں اِنہی ارکان نے کلیدی کردار نبھایا ہے۔

NO FLASH Irak Bagdad Parlament Allawi al-Maliki

وزیر اعظم نوری المالکی، درمیان میں دائیں جانب اور سابق وزیر اعظم ایاد علاوی بائیں جانب، عراقی پارلیمان کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر، فائل فوٹو

امریکی افواج عراق میں فرقہ ورانہ خونریزی کے بیشتر واقعات کی ذمہ داری الصدر کی مہدی ملیشیاء پرعائد کرتی ہیں۔ عراق کے بعض سنی سیاست دان الصدر کی واپسی سے خوش نہیں۔ دیگر کی رائے میں موجودہ سیاسی بحران میں الصدر کی موجودگی سے بہتری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد الصدر کی مہدی ملیشیاء نے مسلح مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔ اپنے خطاب میں الصدر کے ان الفاظ سے حکومتی حلقوں میں بھی خوشگوار حیرت ابھری، جس میں انہوں محض سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی موجودگی کی وکالت کی۔

الصدر نے کہا کہ مبینہ قابضین کے خلاف مزاحمت کی جاتی رہے گی مگر ضروری نہیں کہ اس کے لئے محض اسلحہ کا استعمال کیا جائے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس