1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں اغوا شدہ بھارتی شہری صحیح سلامت ہیں، سشما سوراج

بھارتی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ عراق میں دو سال قبل اسلامک اسٹیٹ کے ہاتھوں اغوا کیے گئے 39 بھارتی شہری صحیح سلامت ہیں تاہم ان کے رشتہ داروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید تاریکی میں نہ رکھا جائے۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک بار پھر کہا ہے کہ عراقی شہر موصل سے جون 2014ء میں اغوا کیے گئے 39 بھارتی شہری اب بھی صحیح سلامت ہیں اور خلیج کے دو ملکوں کے سربراہان مملکت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پرنب مکھرجی کوبتایا ہے کہ یہ بھارتی شہری زندہ ہیں۔

سوراج نے اپنی سالانہ پریس بریفنگ میں کہا، ’’میں جھوٹی یقین دہانی نہیں کرا رہی ہوں۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ ان لوگوں کو ہلاک کردیا گیا ہے تومیں متاثرہ کنبوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتی اور انہیں بتا دیتی کہ وہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور موصل میں جو صورت حال ہے اس میں ان کی ہلاکت کے لیے مجھے مورد الزام بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔‘‘

بھارتی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا، ’’جب میں کہہ رہی ہوں کہ وہ زندہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھ پر ان کا پتا لگانے کی بڑی ذمہ داری ہے۔ میں پچھلے دو برسوں سے انہیں تلا ش کر رہی ہوں۔ یہ میری ذمہ داری ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ میں کسی بھی بھارتی شہری کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتی اور میری طرف سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عراق میں پھنسے بھارتی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اردن کے رہنماؤں نے بھارتی قیادت کو بتایا ہے کہ عراق میں لاپتا بھارتی مزدور زندہ ہیں۔

سشما سوراج کا مزید کہنا تھا، ’’صرف ایک شخص ہرجیت مسیح نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام بھارتی مارے جاچکے ہیں۔ لیکن اس کا دعویٰ زیادہ معتبر ہے یا دوملکوں کے سربراہوں کا؟‘‘

ہرجیت بھی ان بھارتی ورکروں میں شامل تھا جسے اسلامک اسٹیٹ کے انتہا پسندوں نے اغوا کرلیا تھا تاہم وہ زخمی ہونے کے باوجود اغواکاروں کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بھارت پہنچنے پراس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کو بتایا تھا کہ انتہا پسندوں نے تمام 39 بھارتی شہریوں کواس کے سامنے ہی گولی مار ی تھی۔ ہرجیت مسیح بردہ فروشی کے الزام میں آج کل جیل میں بند ہے۔

اغوا شدہ تمام 39 افراد کا تعلق بھارت کی چار مختلف ریاستوں سے ہے تاہم ان میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی صوبہ پنجاب کے لوگوں کی ہے۔ امرتسر کے رہنے والے منجندر سنگھ کی بہن گرپندر سنگھ کہتی ہیں، ’’میں جب بھی سشما سوراج سے ہرجیت کے بارے میں کہتی ہوں تو وہ بولتی ہیں کہ مجھ سے اس کے بارے میں بات مت کرو، تمہیں اس پر بھروسہ ہے یا مجھ پر۔‘‘ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ اس بارے میں اغوا شدگان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں۔

Indien Sushma Swaraj

سشما سوراج کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے ہاتھوں اغوا کیے گئے بھارتی شہریوں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔

اغوا شدہ افراد کے رشتہ داروں نے گذشتہ فروری میں یہاں وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی تھی، جنہوں نے ان لوگوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ تمام افراد صحیح سلامت ہیں اور حکومت جلد ہی انہیں واپس لائے گی۔ تاہم ان کی مایوسی رو ز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے کھوکون سکدر کی اہلیہ نمیتا کہتی ہیں، ’’پہلے تو میرے بچے اپنے ابا کی محفوظ واپسی کی دعائیں ہر روز مانگا کرتے تھے، لیکن اب وہ بھی خاموش رہتے ہیں۔‘‘

امرتسر ہی کے ہرسمرن جیت سنگھ کے والدین کہتے ہیں کہ وزیر خارجہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور شاید داعش ان سے مزدور کا کام لے رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اہلِ خانہ کو ثبوت فراہم کرے اور انہیں تاریکی میں نہ رکھا جائے۔