1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق: علاوی کی برتری، مالکی کا نتائج ماننے سے انکار

عراقی الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں سیکیولر نظریات کے حامل امیدوار ایاد علاوی کو وزیراعظم نوری المالکی پر برتری حاصل ہوگئی ہے۔

default

موجودہ وزیراعظم نوری المالکی، سابق وزیراعظم ایاد علاوی

علاوی کے حامی اتحاد ’العراقیہ‘ کو 91 ، مالکی کے حامی اتحاد ’دولۃ القانون‘ کو 89 جبکہ شیعہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو70 نشتیں ملی۔ ایاد علاوی نے مخلوط حکومت قائم کرنے کی کوششوں کا احاطہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم نوری المالکی نے نتائج ماننے سے انکار کیا ہے۔ سات مارچ کو ہوئے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے مطابق مالکی کو جنوب کے شیعہ اکثریتی علاقے میں جبکہ علاوی کو شمال و مغرب کے سنی اکثریتی علاقے میں زیادہ ووٹ پڑے۔ دریں اثنا مالکی کے نمائندے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایران روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم مالکی ایک حد تک ایران نواز تصور کئے جاتے ہیں جبکہ سابق وزیراعظم علاوی ماضی میں ایران پر عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرچکے ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر مقتدیٰ الصدر اور نوری المالکی نے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تو عراق میں فرقہ ورانہ کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 2005ء کے انتخابات کے بعد پانچ ماہ تک سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات کے بعد حکومت تشکیل دی گئی تھی۔

Irak Proteste

مالکی کو جنوب کے شیعہ اکثریتی علاقے میں جبکہ علاوی کو شمال و مغرب کے سنی اکثریتی علاقے میں زیادہ ووٹ پڑے

گزشتہ ہفتے عراقی الیکشن کمیشن، صدر جلال طالبانی اور وزیراعظم نوری المالکی کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبات کو بھی رد کر چکا ہے۔ حالیہ انتخابات 2003ء میں عراق پر امریکی حملے اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد کے دوسرے پارلیمانی انتخابات تھے، جو ملک کے سیاسی مستقل کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کئے جا رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت پر جب امریکی افواج چھ ماہ کے اندر عراق سے مکمل انخلاء کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، اندرونی سیاسی کشمکش اور بے یقینی کی وجہ سے اس ملک میں سلامتی کی صورتحال بے قابو ہو جانے کا بھی خطرہ ہے۔ رپورٹ : شادی خان سیف ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM