1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے واپسی پر امریکی فوجیوں کے سر بلند ہیں، اوباما

عراق میں موجود آخری امریکی دستوں میں شامل بعض فوجی وطن لوٹ گئے ہیں۔ بدھ کو صدر باراک اوباما نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ تنازعے کو انجام تک پہنچانا غیرمعمولی کامیابی ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

شمالی کیرولینا کے ایٹی سیون ایئربورن ڈوژن کے مرکز پر فوجیوں سے خطاب میں اوباما نے کہا کہ جنگ کو شروع کرنے کے مقابلے میں اسے ختم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سے نکلتے ہوئے آخری دستوں میں شامل امریکی فوجیوں کے سر بلند ہیں۔

امریکی فوج عراق میں اپنے پیچھے نو لاکھ مقامی فوجی چھوڑ رہی ہے، جسے امریکی اور عراقی حکام نے اندرون ملک سلامتی کے امور سنبھالنے کے قابل قرار دیا ہے۔ تاہم اس فورس کو ملکی سرحدوں، فضائی اور سمندری حدود کے تحفظ کی اہل خیال نہیں کیا جاتا۔

رواں ماہ عراق میں تعینات ماندہ امریکی فوجیوں کا انخلاء طے ہے۔ اس تناظر میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے رواں ہفتے پیر کو واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ عراق جنگ ختم ہو چکی ہے اور فوجی اب گھر لوٹ رہے ہیں۔

BDT Irak humanitäre Hilfe

جنگ کے ایام میں عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد پونے دو لاکھ کے قریب تھی

المالکی دورہ امریکہ کے موقع پر باراک اوباما کے ساتھ آرلنگٹن نیشنل سیمٹری (قبرستان ) بھی گئے تھے، جہاں عراق جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباﹰ ساڑھے چار ہزار امریکی فوجیوں میں سے بیشتر کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں عراقی بھی ہلاک ہوئے۔

جنگ کے ایام میں وہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباﹰ ایک لاکھ ستّر ہزار تھی۔ باراک اوباما نے وطن لوٹنے والے فوجیوں سے بدھ کو خطاب میں کہا کہ عراق بلاشبہ زبردست جگہ نہیں ہے لیکن امریکی فوجی اپنے پیچھے ایک آزاد اور مستحکم ملک چھوڑ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی فوجیوں کی جانب سے تربیتی مشن کے حوالے سے عراق اور امریکہ کے درمیان طویل عرصےسے جاری مذاکرت عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو مقدمات سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر ناکام ہو چکے ہیں۔ پھر بھی فریقین کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مستقبل میں فوجی تبادلوں کے موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM