1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے ملنے والی ٹین ایجر جرمن شہری ہے، جرمن حکام

گزشتہ برس ایک جرمن ٹین ایجر لڑکی قبول اسلام کے بعد اپنے گھر سے فرار ہو گئی تھی۔ اس لڑکی کی موجودگی کی اطلاع موصل پر قبضے کے بعد سامنے آئی تھی۔

مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن کے پراسیکیوٹر لورینس ہاسے نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ موصل شہر سے ملنے والی لڑکی جرمن شہری ہے اور وہی ہے جو گزشتہ برس مذہب تبدیل کر کے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ جرمن حکام نے لڑکی کا ملکی پرائیویسی قانون کے تحت  نام صرف لنڈا ڈبلیُو بتایا ہے۔ پراسیکیوٹر نے اس کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں قائم جرمن سفارت خانے نے لڑکی کو قونصلر سروس فراہم کر دی ہے۔

داعش کی نوجوان جرمنوں کی بھرتی کے لیے آن لائن مہم

جرمن جہادی ٹین ایجر لڑکی موصل میں گرفتار، تصدیقی عمل شروع

مقتول جرمن لڑکی کے لیے بہادری کے میڈل کا امکان

لورینس ہاسے نے میڈیا کی اُن رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی ہے کہ لنڈا ڈبلیو قبول اسلام کے بعد عراق پہنچ کر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں میں شامل ہو کر عراقی فوج کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شریک رہی ہے۔ جرمن لڑکی موصل کے ایک جہادی ٹھکانے میں سے پانچ دوسری خواتین کے ہمراہ حراست میں لی گئی تھیں۔ بقیہ خواتین بھی غیر ملکی بتائی گئی ہیں۔

ڈریسڈن کے دفتر استغاثہ کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس ٹین ایجر لڑکی ڈریسڈن کے قریب قصبے پُلزنِٹس سے لاپتہ ہوئی تھی اور جرمن حکام کو اُس کے بارے میں آخری اطلاع ترک شہر استنبول سے موصول ہوئی تھی۔ استنبول ہی سے جرمن لڑکی لنڈا ڈبلیو کی موجودگی کے تمام رابطے گزشتہ برس ہی منقطع ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ موصل میں ظاہر ہوئی تھی۔

Irak Mossul Rückeroberung Soldaten Fahne (Getty Images/AFP/F. Senna)

عراقی فوج نے موصل کا قبضہ حال ہی میں چھڑایا ہے

عراقی حکام نے ابتدا میں اس لڑکی کے جرمن ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ وہ اس لڑکی کو سلاوک یا روسی قرار دے رہے تھے۔ عراقی ذرائع کے مطابق لڑکی کو جب فوج نے اپنے قبضے میں لیا تھا تو اُس کا بدن کئی مقام سے جھلسا ہوا تھا اور اس کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔ عراقی حکام نے یہ واضح کیا تھا کہ اس لڑکی کی شناخت مکمل کرنے کے بعد اُسے فوری طور پر اُس کے ملک روانہ کر دیا جائے گا۔

DW.COM