1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے تابکاری مواد چوری

عراق کی ایک تنصیب سے ’انتہائی خطرناک‘ تابکار مواد چوری ہو گیا ہے اور جس کی تلاش کا کام جاری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش اس تابکاری مواد کو ’ڈرٹی بم‘ بنانے میں استعمال کر سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراقی حکام گزشتہ برس نومبر میں چوری ہونے والے ’انتہائی خطرناک‘ تابکار مادے کی تلاش میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ایجنسی IAEA کے مطابق بغداد نے اس میٹیریل کی چوری کے بارے میں اس ایجنسی کو نومبر میں مطلع کیا تھا تاہم اس کی تلاش میں مدد کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔

یہ میٹیریل ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے سائز کے حفاظتی کیس میں رکھا گیا تھا اور یہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں ایک امریکی کمپنی ویدرفورڈ کی ’اسٹوریج فیسیلٹی‘ میں رکھا گیا تھا۔ روئٹرز نے یہ بات عراقی وزارت ماحولیات کی ایک دستاویز کے حوالے سے بتائی ہے جس کی تصدیق صوبائی حکام نے بھی کی ہے۔ ویدرفورڈ کمپنی کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق وہ نہ تو اس چوری کی ذمہ دار ہے اور نہ ہی یہ اس کا کام ہے۔

روئٹرز کے مطابق یہ میٹریل دراصل تیل اور گیس کی پائپ لائنوں میں کسی خرابی کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ’انڈسٹریل گیما ریڈیو گرافی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لاپتہ ہونے والا یہ مواد استنبول میں قائم ’ایس جی ایس ترکی‘ کی ملکیت تھا۔ عراق میں ایس جی ایس کی طرف سے روئٹرز کے سوالوں کا جواب نہیں دیا گیا بلکہ انہیں استنبول میں واقع کمپنی ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کرنے کو کہا گیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وہ ان رپورٹوں سے آگاہ ہے مگر اسے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ اسلامک اسٹیٹ یا کسی اور شدت پسند گروپ کے ہاتھ لگا ہو۔

آئی اے ای اے کے مطابق یہ میٹیریل ’کیٹیگری ٹو ریڈیو ایکٹیو سورس‘ کے زمرے میں آتا ہے

آئی اے ای اے کے مطابق یہ میٹیریل ’کیٹیگری ٹو ریڈیو ایکٹیو سورس‘ کے زمرے میں آتا ہے

عراق کی وزارت ماحولیات کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ لاپتہ ہونے والی ڈیوائس میں تابکار عنصر اریڈیم کے آئسوٹوپ ''IR-192 کے 10 گرام تک وزن کے کیپسول موجود تھے۔ یہ آئسوٹوپ کینسر کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

آئی اے ای اے کے مطابق یہ میٹیریل ’کیٹیگری ٹو ریڈیو ایکٹیو سورس‘ کے زمرے میں آتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر اسے مناسب حفاظتی انداز میں نہ رکھا جائے اور کوئی شخص اس کی تابکاری سے چند منٹ یا چند گھنٹوں کے لیے متاثر ہو جائے تو اسے مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Ir-192 نامی یہ تابکار مادہ ماضی میں امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی لاپتہ ہو چکا ہے جس کے بعد سکیورٹی حکام میں یہ خدشات پیدا ہو گئے کہ اسے ’ڈرٹی بم‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈرٹی بم دراصل جوہری مادے کو روایتی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ملا کر تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد ایک بڑے علاقے میں تابکاری پھیلانا ہوتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بصرہ سے لاپتہ ہونے والا یہ ریڈیو ایکٹیو میٹیریل داعش کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور وہ اسے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ شامل کر کے ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔