1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کی باضابطہ تقریب

جمعرات کو عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی فوج کے انخلاء کی ایک باضابطہ تقریب منعقد ہوئی جو نو برس کے قریب جاری رہنے والی اس جنگ کے اختتام کی علامت ہے۔ تقریب میں امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا بھی شریک تھے۔

default

عراق جنگ کے عروج کے دنوں میں ملک میں قائم پانچ سو سے زائد امریکی اڈوں پر قریب ایک لاکھ 70 ہزار امریکی فوجی تعینات رہے تھے۔ تاہم رواں ماہ کے آخر تک امریکی فوجی دستوں کا انخلاء مکمل ہو جانے کے بعد ان کی تعداد چار ہزار رہ جائے گی۔

امریکہ نے سن 2003 میں اس وقت کے آمر صدام حسین کی زیر قیادت عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے عراق پر حملہ کیا تھا۔ اس جنگ میں ہزارہا عراقی باشندے اور ساڑھے چار ہزار کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ جنگ کئی لحاظ سے متنازعہ بھی رہی کیونکہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کبھی نہ مل سکے۔

Irak Anschlag in Mosul

عراق جنگ میں ہزارہا عراقی باشندے اور ساڑھے چار ہزار کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے

فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا، ’’عراق میں ہمارا مشن ایک ایسی حکومت کا قیام تھا جو خود مختار اور آزاد ہو اور اپنا نظم و نسق اور سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ میرے خیال میں ہم وہاں اس مشن کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔‘‘

George W. Bush Welt Wissens Forum

سابق امریکی صدر جارج بش نے عراقی پر امریکی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں

ایک روز قبل صدر باراک اوباما نے وطن واپس لوٹنے والے فوجیوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج کی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب بند ہو رہا ہے اور اب عراق کی تقدیر اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی صورت حال کو مثالی تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن امریکی فوجی اپنے پیچھے ایک آزاد اور مستحکم ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،

Fragezeichen

آپ کو یہی کوڈ تلاش کرنا تھا ۔ ہمیں یہ نمبر 3259، تاریخ15.12.11 اوراس رپورٹ کے بارے میں اپنی رائے ای میل یا ایس ایم ایس کر دیں۔

’’پورے خطے کے عوام عراق کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھیں گے جو اپنی قسمت کا خود تعین کرے گا۔ ایک ایسا ملک جس میں مختلف مذہبی فرقوں، نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اختلافات جمہوری انداز میں اور پرامن طریقے سے حل کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف ملکوں کے ساتھ نئی شراکتیں قائم کر رہا ہے اور اپنی افواج کی واپسی کے بعد بھی عراق کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھے گا۔ ’’عراقی عوام یہ بات جان لیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ وہ امریکہ کے مضبوط اور دیرپا شراکت دار ہیں۔‘‘

امریکی فوج نے عراق میں سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے نو لاکھ مقامی فوجیوں کو تربیت دی ہے مگر اس فوج کی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد عراق کا ہمسایہ ملک ایران عراق کی صورت حال پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM