1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے امریکی افواج کا انخلاء اور آئندہ تعلقات کی نوعیت

ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھی بغداد اور واشنگٹن کے تعلقات مضبوط رہیں گے مگر ایران جیسے ہمسایہ ممالک وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں کر سکتے ہیں۔

default

رواں برس کے اختتام تک چند تربیت کاروں کے علاوہ تمام امریکی فوجی ملک چھوڑ دیں گے تاہم  عراق میں پھر بھی دنیا میں سب سے بڑا امریکی سفارت خانہ موجود رہے گا جس کے عملے کی تعداد 16 ہزار افراد پر مشتمل ہو گی۔

لندن کے اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ میں عراق سے متعلق ایک تجزیہ کار علی الصفر نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ اور عراق کے تعلقات کافی گرمجوش رہیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’عراقی عوام اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک میں امریکی  کمپنیوں کی ضرورت ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں بھی اہم تجارتی تعلق موجود رہے گا۔‘‘

Symbolbild Iran Saudi Arabien

امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ایران اور سعودی عرب عراق میں اثر و رسوخ بڑھانے کی جدوجہد کر سکتے ہیں

واشنگٹن کے سفارت خانے کی اتھارٹی کے تحت چلنے والے دفتر برائے سلامتی تعاون عراق میں 157 امریکی اہلکار اور 763 سویلین کنٹریکٹرز موجود ہیں جو عراقی فورسز کو اس اسلحے کے استعمال کی تربیت دیں گے جو بغداد امریکہ سے خریدے گا۔

اس کے علاوہ عراق آئندہ چند برسوں میں اپنی تیل کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

علی الصفر کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد امریکہ کا عراق پر اثر و رسوخ کم ہو جائے گا اور خطے کے اہم ممالک یعنی ایران اور سعودی عرب اس پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کریں گے۔

تاہم انہوں نے مزید کہا، ’’عراق کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کبھی بھی بیرونی دباؤ یا اثر و رسوخ کو برداشت نہیں کیا اور یوں وہ خطے میں کسی دیگر ملک کا آلہ کار نہیں بنے گا۔‘‘

Ölraffinerie im Irak

عراق آئندہ چند برسوں میں اپنی تیل کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

تاہم ان کے بقول اگر ملک میں ایک بار پھر فرقہ واریت کے شعلے بھڑک اٹھے تو اس سے علاقائی طاقتوں کو ملک میں دخل اندازی کا موقع مل جائے گا۔

برسلز میں قائم انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر جوس ہلٹر مین نے کہا کہ امریکہ اور عراق کے درمیان تعلقات ’کم از کم کچھ عرصے کے لیے‘ اسی حالت میں رہیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب عراق کا امریکہ سے لین دین ایک مقبوضہ ملک کی بجائے شراکت دار کا ہو گا اور وہ ایسی شرائط پر بات چیت کرے گا جو اس کے لیے بھی مفید ہوں۔ چونکہ امریکہ کو ایران کے خلاف عراق کی ضرورت ہے، لہٰذا وہ ان شرائط پر نرم انداز میں غور کرے گا۔‘‘

جوس ہلٹر مین نے کہا کہ ترکی بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ملک میں کافی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

برطانیہ کی نجی سکیورٹی فرم اے کے ای سے وابستہ ایک تجزیہ کار جون ڈریک کے مطابق امریکہ عراق کے باہمی تعلقات کا انحصار عراق کے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات پر بھی ہے۔ ’’اگر عراق، ایران جیسے امریکہ مخالف ملکوں کے نزدیک چلا گیا تو اس سے یہ تعلقات متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM