1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے آزادی کے لیے تاریخی ریفرنڈم

عراقی کرد تیل کی دولت سے مالا مال کرد علاقے پر مشتمل ایک آزاد ریاست کے قیام کی خاطر ایک ریفرنڈم کا انعقاد کرا رہے ہیں۔ عراق، ترکی، شام اور ایران آج ہونے والے ریفرنڈم کے مخالف ہیں جبکہ اسرائیل اس کے حق میں ہے۔

عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں آج عراق سے آزادی کی خاطر ایک ریفرنڈم کا انعقاد کروایا جا رہا ہے، جس پر نہ صرف بغداد حکومت بلکہ ایران، ترکی اور شام بھی اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ امر اہم کے اس ریفرنڈم کے نتائج پر عملدرآمد لازمی نہیں ہو گا۔

کُرد ترکی، ایران اور شام میں بھی آباد ہیں۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ کردستان کے قیام کی صورت میں ان ممالک میں آباد کرد بھی اپنی آزادی اور کردستان کے ساتھ الحاق کا نعرہ بلند کر دیں گے۔ یہ ممالک آزاد کردستان کا تصور پیش کرنے والے کرد اور سابق فوجی لیڈر مسعود بارزانی کو متعدد مرتبہ نتائج سے خبردار کر چکے ہیں۔

دوسری طرف علاقائی سطح پر صرف اسرائیل ہی ایک ایسا ملک ہے، جو عراقی کردوں کی آزاد ریاست کی حمایت کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یوں اسرائیل اور کردوں کے مابین اچھے تعلقات قائم ہو سکیں گے اور ایسے امکانات پیدا ہو جائیں گے کہ یہ دونوں مل کر ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف موثر کارروائی کر سکیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کردوں کی ایک آزاد ریاست کے قیام کو قابل قبول قرار دے چکے ہیں۔

ووٹنگ کا انعقاد عراق کے نیم خودمختار کردستان کے تین بڑے شمالی صوبوں اربیل، سلمانیہ اور دھوک میں کروایا جا رہا ہے۔ ان کے علاوہ ایران، ترکی اور شام سے ملحق سرحدی عراقی علاقوں میں بھی ووٹ ڈالیں گئے ہیں، جن میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک بھی شامل ہے۔ 

اس ریفرنڈم کے مثبت نتیجے کی صورت میں کرد قوم کو فوری طور پر آزادی حاصل نہیں ہو گی بلکہ اُسے بغداد حکومت کے ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مذاکراتی عمل شروع کرنا ہو گا، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔

بغداد حکومت نے کہا ہے کہ وہ عراق کے اتحاد اور سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ عراق حکومت کے مطابق وہ نیم خود مختار کردستان کی تیل کی فروخت کو نشانہ بنائیں گے۔ عراقی کرد فی دن کے حساب سے چھ لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتے ہیں۔

اس نیم خود مختار علاقے کے دوسرے بڑے شہر سلمانیہ میں چالیس سالہ دیار عمر کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم اپنی آزادی ووٹ کے ذریعے حاصل کریں گے۔ میں خوش ہوں کہ میں اپنی حیات میں ایسا ریفرنڈم دیکھ رہا ہوں اور اس میں شامل ہوں۔‘‘

کرد نیوز ایجنسی روداو کے مطابق مجموعی طور پر بارہ ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور ریفرنڈم میں تریپن لاکھ رجسٹر ووٹر حصہ لینے کے اہل ہیں۔ متنازعہ کرکوک کے علاقے میں مساجد سے اس ریفرنڈم میں حصہ لینے کے لیے اعلانات کیے گئے ہیں۔

اس ریفرنڈم کے نتائج پولنگ ختم ہونے کے چوبیس گھنٹوں بعد سامنے آ سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق اکثریتی طور پر اس ریفرنڈم کے نتائج ایک آزاد کردستان ریاست کے قیام کے حق میں آئیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات