1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق ، سیاسی غیر یقینی کی فضاء اوردہشت گردی

عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک فٹبال مقابلے کے دوران دہرے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ہفتے میں دہشت گردی کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔

default

مقامی ذرائع کے مطابق جمعہ کو ’تل افار‘ نامی علاقے میں پیش آئے اس واقعے میں زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے۔ ایک عینی شاہد حسین ناشاد کے مطابق کھیل کے میدان میں سیکورٹی اہلکار تعینات نہیں تھے، اسی اثنا میں کسی نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا اور پھر دھماکہ ہوا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے گاڑی میں چھپایا گیا بارودی مواد پھٹا اور اس کے بعد خودکش حملہ کیا گیا۔

Kombo Ayad Allawi und Nuri al-Maliki

دائیں سے بائیں، نوری المالکی، ایاد علاوی

عراق میں سلامتی کی ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی فضا بھی غیر مستحکم ہے۔ امریکی افواج اگست کی31 تاریخ سے واپسی کی تیاریوں میں ہیں اور عراقی سیاستدان حکومت سازی کی کوششوں میں۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد مارچ میں ہوئے دوسرے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے حکومت سازی کے معاملات غیر یقینی کا شکار چلے آرہے ہیں۔

وزیر اعظم نوری المالکی کے مطالبے پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ابھی تک دھاندلی کے واضح ثبوت نہیں ملے سکے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان قاسم ال ابودی کے مطابق بعض حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد سامنے آنے والے اعداد وشمار کو مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ حتمی نتائج پیرکو متوقع ہیں۔ ان کے بقول دارالحکومت بغداد میں گیارہ ہزار سے زائد ’بیلٹ باکسز‘ میں ڈالے گئے ووٹ دوبارہ گن لئے گئے تاہم نتائج میں کوئی دھاندلی ثابت نہیں ہوئی۔ بغداد کے اڑسٹھ حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا آغاز تین مئی کو کیا گیا تھا۔ عراقی پارلیمان مجموعی طور پر تین سو پچیس نشستوں پر مشتمل ہے۔

Wahlen in den Irak Flash-Galerie

انتخابات کے عبوری سرکاری نتائج کے مطابق سیکیولر نظریات کے حامل ایاد علاوی کے حامی اتحاد ’العراقیہ‘ کو شیعہ عقیدے کے پیروکار نوری المالکی کے حامی اتحاد ’دولة القانون‘ پر معمولی برتری حاصل ہے۔ صوبائی سطح پر البتہ مالکی کی برتری برقرار ہے۔ مالکی کو عراق کے 18 میں سے سات صوبوں میں برتری حاصل ہے۔

عراقی پارلیمان میں نشستیں صوبائی سطح پر انتخابی نتائج کے مطابق مختص کی جاتی ہیں۔ علاوی کے اتحاد کو 91 اور نوری مالکی کے اتحاد کو 89 نشستیں جبکہ شیعہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 70 نشتیں ملی ہیں۔

نوری المالکی کی جانب سے روں ماہ ایسے دعوے کئے گئے تھے کہ ان کا شیعہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے لئے اتحاد طے پاگیا ہے تاہم اعداد وشمار کے مطابق دونوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد بھی حکومت بنانے کے ناکافی ہے اور اکثریتی جماعت العراقیہ کو حکومت سے باہر کرنے کے منفی اثرات کا بھی خدشہ ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM