1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق رپورٹ پر ملا جلا ردّ ِ عمل

جہاں ایک طرف عراق پر امریکی قبضے کے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں وہاں ان پانچ برسوں میں ہونے والی ہلاکتوں ، تباہ کاریوں، قیامِ امن کی کاوشوں، قیامِ جمہوریت کی امریکی جدو جہد، کامیابیوں اور ناکامیوں سمیت ان گنت پہلوئوں پر ہر جانب سے تجزیے ، رپورٹس اور جائزے پیش کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین منگل کے روز امریکی کانگریس کے سامنے پیش کی گئی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور رایان کروکر کی عراق رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ پر بھی ہر عراقی رپورٹ کی ط

default

رح ملا جلا ردّ ِ عمل سامنے آیا ہے۔


سب سے پہلے تو ایران نے ہر بار کی طرح ، اور ایک لحاظ سے رپورٹ کے پیش کیے جانے سے قبل ہی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ رپورٹ میں عراق میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور عراق میں امریکی سفیر رایان کرو کر نے ایران پر ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراقی عسکریت پسندوں یا مزاحمت کاروں کی امداد کر رہا ہے۔


مگر رپورٹ کا یہ نیا پہلو نہیں ہے۔ نئی عراق رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ عراق سے امریکی افواج کا انخلا معطل کر دیا جائے۔ ڈیوڈ پیٹریئس اور رایان کروکر کے مطابق گو کہ عراق میں امریکہ کو شان دار کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں، اگر عراق سے امریکی افواج کو واپس بلایا گیا تو یہ عمل امریکہ کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔


وائٹ ہائوس میں فی الحال مقیم بش انتظامیہ نے رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد اس بات کا عندیہ دے دیا ہے کہ وہ امریکی افواج کے انخلا کی معطلی کی حمایت کرے گی۔


عراقی جنگ رواں سال دسمبر میں امریکی صدارتی انتخابات کا ایک اہم موضوع ہے لہٰذا ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلکن پارٹی میں اس حوالے سے اختلاف کاپایا جانا خاصا فطری ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن آئک اسکیلٹن نے رپورٹ پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ امریکہ پر آئندہ دہشت گردانہ حملے کا خطرہ افغانستان سے ہے اور امریکہ کو اپنی توانائیاں وہاں صرف کرنی چاہیئیں ۔


رپبلکن پارٹی کے حتمی صدارتی امیدوار جان میک کین نے رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ نقصانات کی پروا کیے بغیر افواج کے انخلا کے حامی نہیں ہیں اور یہ کہ بالآخر امریکہ عراق میں کامیابی کا سفر طے کر رہا ہے۔


غیر حتمی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار سینٹر ہلری کلنٹن نے رپورٹ پر تنقید کر تے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ عراق سے مرحلہ وار افواج واپس بلا لی جائیں اور افغانستان پر توجہ مرکوز کی جائے۔


ڈیموکریٹک پارٹی کے دوسرے غیر حتمی صدارتی امیدوار براک اوباما کا کہنا ہے کہ عراقی جنگ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عراقی جنگ کے حوالے سے امریکی کامیابی کے بہت ہی بلند معیارات قائم کر لیے جائیں گے تو ممکن ہے امریکہ کو عراق میں بیس تیس سال اور رہنا پڑے۔


عراقی جنگ سے تباہ حال عام عراقی شہری نئی عراق رپورٹ سے نا واقف ہیں۔