1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق جنگ کے پانچ سال: کب کیا ہوا؟

سن 2008 میں بیس مارچ کو عراق پر امریکہ کی سربراہی میں اُس جنگ کے پورے پانچ سال مکمل ہوئے‘ جس کے بارے میں امریکی صدر جارج بُش کو آج بھی یہ پختہ یقین ہے کہ وہ اس کو جیت سکتے ہیں!

default

اگرچہ امریکی صدر جارج بُش نے یکم مئی‘ سن دو ہزار تین کو یہ بیان دیا کہ عراق میں ان کا اہم فوجی مقصد تقریباً پورا ہوگیا ہے لیکن ان کے اس بیان کو تقریباً پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں‘ صورتحال آج بھی کچھ مختلف دکھائی نہیں دیتی ہے۔صدر بُش کہتے ہیں:

‘عراق جنگ کو پانچ برس مکمل ہوگئے۔اس حوالے سے ایک بحث جاری ہے کہ آیا یہ جنگ چھیڑنی ضروری تھی بھی یا نہیں؟ کیا اس جنگ کو جیتنا چاہیے اور یہ کہ‘ کیا ہم اس کو جیت سکتے ہیں؟ میرے سامنے اس کا جواب صاف ہے۔صدام حسین کا تختہ اُلٹنا ایک صحیح فیصلہ تھا اور یہ ایک ایسی جنگ ہے جو امریکہ جیت سکتا ہے‘ اور اسے جیتنی بھی چاہیے۔‘

عراق میں سابق صدر صدام حسین کا تختہ اُلٹ گیا‘ ان کو پھانسی بھی ہوئی‘ اور دو ہزار تین سے اب تک لاکھوں عراقی شہری ہلاک اور بے گھر ہوگئے۔بیتے ہوئے ان پانچ برسوں میں عراق میں کب کب‘ کیا کیا ہوا؟

دس مارچ‘ دو ہزار تین: اقوام متحدہ کے اُس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان واشنگٹن کو خبردار کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت کے بغیر عراق پر جنگ مسلط کرنا اس عالمی ادارے کے قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

سترہ مارچ‘ دو ہزار تین: امریکہ‘ برطانیہ اور سپین‘ عراق میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے سلسلے میں بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کو ختم کردیتے ہیں۔

بیس مارچ‘ دو ہزار تین: امریکہ اوربرطانوی افواج کوویت کے راستے سے عراق پر دھاوا بولتی ہیں۔

نو اپریل: امریکہ اور اس کے اتحادی افواج کی بے پناہ طاقت کے سامنے بالآخر صدام حسین کی حکومت کمزور پڑجاتی ہے اور اس طرح غیر ملکی فوجی عراق کے دل‘ یعنی بغداد کے اندر داخل ہوکر اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔اسی روز اُس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کے ایک بڑے مجسمے کو بغداد میں گرا دیا جاتا ہے۔

بائیس جولائی: امریکی افواج موصل میں ایک رہائشی گھر میں داخل ہوکر وہاں پناہ لینے والے صدام حسین کے دو بیٹوں‘ اودے اور قصے کو ہلاک کردیتے ہیں۔

انیس اگست: بغداد میں اقوام متحدہ کے ھیڈکوارٹر پر ایک خودکُش بم حملہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک یو این ایلچی سمیت بائیس افراد ہلاک ہوتے ہیں۔اس حملے کے بعد پورے عراق میں خودکش بم حملوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

تیرہ دسمبر‘ دو ہزار تین: امریکی فوجی دستے تکرت میں ایک گھڑے سے صدام حسین کو گرفتار کرتے ہیں۔امریکی گورنر پال بریمر یہ خبر بریک کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'We Got Him'

آٹھ مارچ‘ دو ہزار چار: عراق گورننگ کونسل ایک عبوری آئین پر دستخط کرتی ہے۔

یکم جون: دو ہزار چار: گورننگ کونسل کو تحلیل کرکے ایاد علوی کی سربراہی میں ایک نگراں حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

تیس جنوری‘ دو ہزار پانچ: عبوری پارلیمان کے انتخابات کے لئے تقریباً اسی لاکھ عراقی رائے دہی کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہیں لیکن سنییوں کی اکثریت ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے۔

اکتیس اگست: شمالی بغداد میں خودکش بم حملے کی افواہ کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ شیعہ عراقی بھگدڑ میں ہلاک ہوتے ہیں۔

انیس اکتوبر: صدام حسین پر انسانیت کے خلاف مظالم ڈھانے کے الزام کے تحت مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے اور وہ اپنی بے گناہی کا رونا روتے ہیں۔

پندرہ دسمبر‘ دو ہزار پانچ: صدام حسین کی معزولی کے بعد عراق میں 250 نشستوں والی پارلیمان کے لئے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔

سات اپریل‘ دو ہزار چھہ: عراقی پارلیمان جلال طالبانی کو دوبارہ صدر منتخب کرتی ہے۔

پانچ نومبر : عراق کی ایک عدالت صدام حسین کو مجرم قرار دیتی ہے اور دوجیل ہلاکتوں کے لئے انہیں موت کی سزا سناتی ہے۔

چھہ دسمبر‘ دو ہزار چھہ: سابق امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر کی سربراہی میں عراق سڈیڈی گروپ یہ سفارش کرتا ہے کہ عراق سے امریکی فوجی انخلاءکا آغاز ہونا چاہیے۔تیس دسمبر‘ دو ہزار چھہ: صدام حسین کو پھانسی دی جاتی ہے۔

دس جنوری‘ دو ہزار سات: امریکی صدر بُش‘ مزید اکیس ہزار سے زائد فوجیوں کو عراق روانہ کرنے کا اپنا منصوبہ پیش کرتے ہیں۔

دو ہزار سات کے فروری مہینے میں وزیر اعظم نوری المالکی امریکہ کی حمایت سے عراقی شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا اعلان کرتے ہیں۔

اور دو ہزار آٹھ مارچ میں بھی خودکُش حملوں کو سلسلہ بدستور جاری ہے‘ اور جنگ ابھی جاری ہے!