1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد

عراق میں 2004ء سے 2008ء تک پرتشدد کارروائیوں میں پچاسی ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار بغداد حکومت نے جاری کئے ہیں، جو ملک پر امریکی حملے کے بعد اس نوعیت کا پہلا قدم ہے۔

default

عراقی وزارت برائے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں لسانی فسادات بھی چھڑے اور ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ رپورٹ میں ان ہلاکتوں کے لئے شرپسند عناصر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو دھماکوں، قتل، اغوا اور زبردستی بے دخلی جیسی کارروائیوں میں ملوث رہے۔

اس عراقی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال ملک میں امن و امان اور عوام کے لئے

Anschläge im Irak, 18.11.2005, Autobombe

عراق میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد دوہزار سے زائد ہے

ایک بڑا چیلنج ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر پچاسی ہزار چھ سو چورانوے افراد ہلاک ہوئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سینتالیس ہزار ایک سو پچانوے رہی۔ مرنے والوں میں سے 15 ہزار کی شناخت نہیں ہو سکی۔

2006ء اور 2007ء کے دوران عراق میں لسانی فسادات جاری رہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں اسی عرصے میں ہوئیں، یعنی پہلے سال ہزار بتیس سے زائد اور دوسرے سال انیس ہزار سے زائد۔

عراقی حکام کے مطابق مجموعی تعداد شہریوں اور مقامی سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی ہے جبکہ اس عرصے میں وہاں ہلاک ہونے والے غیرملکی اس میں شامل نہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریبا تیرہ سو بچے، تیئس سو سے زائد خواتین، دو سو تریسٹھ یونیورسٹی پروفیسرز، اکیس جج، پچانوے وکیل اور دو سو انہتر صحافی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں مارچ 2003ء میں امریکی حملے کے فورا بعد ہونے والی ہلاکتوں کے اعدادوشمار نہیں دیے گئے۔ تاہم عراقی میں ہلاکتوں پر نظر رکھنے والے ایک خودمختار برطانوی ادارے کے مطابق امریکی حملے کے آغاز سے اب تک وہاں ترانوے ہزار پانچ سو چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب عراق میں اتحادی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق وہاں اب تک چار ہزار چھ سو سڑسٹھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے چار ہزار تین سو انچاس امریکی اور ایک سو اناسی برطانوی ہیں جبکہ دیگر ایک سو انتالیس کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM