1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق جنگ، متعدد برطانوی فوجیوں پر ’غیر قانونی قتل‘ کے الزامات ختم

عراق جنگ کے دوران برطانوی فوجیوں کی طرف سے عراقی شہریوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر قتل کرنے کے سلسلے میں جاری تقریبا ساٹھ تحقیقاتی انکوائریوں کو روک دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستاون ایسی انکوائریوں کو روک دیا گیا ہے، جن کے تحت یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ آیا برطانوی فوجیوں نے عراق میں تعیناتی کے دوران عراقی قیدیوں ہلاک یا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

DW.COM

سن2003 تا 2009 ء جاری رہنے والی عراق جنگ کے دوران برطانوی افواج عالمی عسکری اتحاد کا ایک اہم حصہ رہی تھیں۔ اس جنگ کے بعد برطانیہ میں IHAT نامی انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ عراق میں قیام کے دوران برطانوی فوج غیرقانونی اقدامات کی مرتکب ہوئی تھی یا نہیں۔

قبل ازیں قدامت پسند برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایسے وکلاء کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جو ان انکوائریوں میں ملکی فوج کے خلاف کیس لڑ رہے تھے۔ کیمرون کے مطابق ’جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کی بنا پر یہ وکیل منافع کمانے کی کوشش‘ میں ہیں‘۔ کیمرون نے ملکی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’بہادر برطانوی فوجیوں‘ نے عراق میں جنگ لڑی ہے۔

دوسری طرف برطانوی فوج کے سابق قانونی مشیر نکولاس میرسر کہتے ہیں کہ اس نوعیت کے 326 کیس ’میرٹ‘ پر حل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس مد میں بیس ملین پاؤنڈ کا خرچہ بھی آ چکا ہے۔

میرسر نے چینل فور نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ایک الزام یہ بھی ہے کہ عراقی قیدیوں کو دوران حراست ایک منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ اس سلسلے میں کوئی ایک یا دو افراد قصوروار تھے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔

10 Jahre Irakkrieg

سن2003 تا 2009 ء جاری رہنے والی عراق جنگ کے دوران برطانوی افواج عالمی عسکری اتحاد کا ایک اہم حصہ رہی تھیں

IHAT نامی انکوائری ٹیم فی الوقت ایک ہزار تین سو انتیس کیسوں کی چھان بین کر رہی ہے، جن میں دوران حراست قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی، غیر قانونی قتل اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

دسمبر 2012ء میں برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ دو سو سے زائد ایسے عراقیوں کو پندرہ ملین پاؤنڈ کا ہرجانہ ادا کیا گیا، جنہوں نے برطانوی فوجیوں پر تشدد یا غیر قانونی گرفتاریوں کا الزام عائد کیا تھا۔