1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق جنگ: بش اور کلنٹن کے ایک دوسرے پر الزامات

عراق جنگ کے حوالے سے ایک دہائی سے جاری غم وغصہ امریکا میں اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پھر منظر عام پر آ گیا ہے۔

منگل کے روز صدارتی دوڑ میں شریک جیب بُش اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے عراق میں جاری عدم استحکام کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔

12 برس بعد جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کی سربراہی میں امریکا نے عراق جنگ کا فیصلہ کیا تھا، ان کے بھائی اور ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند جیب بُش نے ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی حکومت نے عراقی تنازعے کو منطقی انجام تک پہنچانے سے قبل ہی وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جارج ڈبلیو بُش کے بھائی جیب بُش نے اپنی ڈیموکریٹک حریف اور سابق سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ عراق سے جلد بازی میں امریکی افواج کی واپسی کر کے انہوں نے وہاں اسلامک اسٹیٹ کے پنپنے کی راہ ہموار کی۔

بُش نے کیلیفورنیا میں حاضرین سے ایک خطاب میں کہا، ’’قبل از وقت فوجوں کی واپسی ایک انتہائی خطرناک غلطی تھی، جس سے خلا پیدا ہوا اور (اسلامک اسٹیٹ) نے اسے آگے بڑھ کر پر کر دیا۔‘‘ جیب بُش کا مزید کہنا تھا، ’’کسی خطرے سے دور بھاگنا بھی ہر حوالے سے اتنا ہی غیر عقلمندانہ ہے جتنا خطرے کی جانب بھاگنا، اور اس کی قیمت خوفناک ہے۔‘‘ بُش کی تو یہ بھی تجویز تھی کہ وہاں امریکی فوجی دوبارہ بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند بُش نے ہیلری کلنٹن کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں محض ایک مرتبہ عراق کا دورہ کیا۔

جیب بُش کے ان الفاظ سے واشنگٹن میں اس بحث کا ایک بار پھر آغاز ہو گیا ہے، جس نے ان کے بھائی کی قیادت کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان تنازعے کے علاوہ عراقی تنازعہ ہیلری کلنٹن کی سیاست کے لیے بھی ایک مسئلہ ثابت ہوا اور 2008ء کے انتخابات کے لیے ان کے مقابلے میں جنگ کے مخالف باراک اوباما کو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارت کا امیدوار نامزد کر دیا گیا۔

بُش نے ہیلری کلنٹن کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں محض ایک مرتبہ عراق کا دورہ کیا

بُش نے ہیلری کلنٹن کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں محض ایک مرتبہ عراق کا دورہ کیا

خیال رہے کہ 2002ء میں ہیلری کلنٹن نے نیویارک سے بطور سینیٹر بُش کے فوجی کشی کے منصوبے کی تائید کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے اپنے اس ووٹ کو غلطی قرار دیا تھا۔ لیکن منگل کے روز ان کی انتخابی مہم کی طرف سے کلنٹن کے دوسرے نقطہ نظر کا دفاع کیا۔

خارجہ پالیسی کا طویل تجربہ رکھنے والے اور کلنٹن کی کامیابی کی صورت میں ان کے سکیورٹی ایڈائزر مقرر ہونے کے امیدوار جیک سُلیوان نے جیب بُش کے الفاظ کو تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش اور ذمہ داری کسی اور کے سر تھوپنے کی کوشش قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا، ’’انہیں اصل غلطی کی ذمہ داری سے فرار ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ دراصل عراق میں القاعدہ سے نکلی اور قبضے کے دوران پھلی پھولی: ’’عراق پر حملے سے قبل اس کا کوئی نام نشان نہیں تھا۔ یہ صدر بُش کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘‘