1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق: تشّدد کی تازہ لہر میں متعدد ہلاکتیں

سیکورٹی حکام کے مطابق آج عراقی شہر بعقوبہ میں ایک فوجی اڈے کے قریب دو خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 65 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

default

عراقی شہر کربلا میں گریجویشن تقریب کے دوران ایک خاتون پولیس افسر پستول سے نشانہ باندھتے ہوے

عراقی پولیس کا کہنا ہے کے یہ خودکش حملے شہر بعقوبہ میں واقع ایک فوجی اڈے کے سامنے کئے گئے۔ امریکی افواج کے مطابق ہلاک شدگان میں زیادہ تر تعداد ان نوجوانوں کی تھی جو فوج میں بھرتی کے لئے آئے وہاں جمع ہوئے تھے۔

شہر بعقوبہ عراقی صوبے دیالہ کا دارالحکومت ہے اور اسے سیکورٹی کے اعتبار سے ملک کا سب سے حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

عراقی حکام کے مطابق منگل کے دھماکوں سے محض ایک روز قبل ہی حکومت نے اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم یہ فوجی کارروائیاں کب شروع کی جائیں گی اس بارے میں وزارت داخلہ نے کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی تھیں۔

Irak Soldat in Sadr City in Bagdad

شیعہ ملیشیا مہدی آرمی کے علاقے صدر سٹی میں ایک عراقی سیکورٹی اہلکار پہرہ دیتے ہوے

بعقوبہ میں پہلے بھی پولیس اور فوج میں بھرتی کے خواہان نوجوانوں پر حملے کئے جا چکے ہیں۔

آج کے دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان ندیم حمید کا کہنا تھا" ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ میں نے دیکھا کی ہر طرف خون اور انسانی اعضاء کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے اورلوگ مدد کے لئے پکار رہے تھے۔ اس کے بعد ایک اور زور دار دھماکہ ہوا۔ جب مجھے ہوش آیا تومیں نے خود کو ہسپتال میں پایا"۔

بائیس جولائی کو بھی بعقوبہ میں ایک ایسا ہی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر ایک علیحدہ واقعے میں شہر موصل میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں دو خواتین اور پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق شمالی عراق میں دو اعلٰی فوجی عہدداروں کو اغوا بھی کر لیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں پر تشدد واقعات میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے۔ عراق کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے بعض ماہرین کی رائے میں ان امریکی دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول سیکورٹی اعتبار سے آج بھی عراق محفوظ نہیں ہے۔