1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق اور افغانستان میں تشدد کا نشانہ بننے والے قیدیوں کی تصاویر جاری

امریکی محکمہ دفاع نے عراق اور افغانستان میں ایک عشرے سے بھی پہلے قید کیے گئے ایسے قیدیوں کی تقریباً دو سو تصاویر جاری کر دی ہیں، جنہیں دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

USA Pentagon Veröffentlichung Fotos Gefangene Misshandlungen

ان تصاویر میں قیدیوں کے جسموں پر زخموں کے نشان اور کٹ بھی دیکھے جا سکتے ہیں

خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھانٹی کے بعد جاری کردہ 198 تصاویر 2004ء تا 2006ء کے درمیانی عرصے کے دوران لی گئی تھیں۔ اس دوران ایسے چھپن کیسز سامنے آئے تھے، جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ امریکی فوجیوں نے قیدیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا تھا۔

جاری کردہ ان تصاویر میں سے زیادہ تر امیجز واضح نہیں ہیں لیکن ان میں قیدیوں کی ٹانگوں اور بازوؤں پر تشدد کے نشانات واضح ہیں۔ ان تصاویر میں قیدیوں کے جسموں پر زخموں کے نشان اور کٹ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم تصاویر میں دیکھے جانے والے ان قیدیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ قیدی کس طرح اور کیوں زخمی ہوئے۔

پینٹا گون کی طرف سے بروز جمعہ جاری کردہ ان تصاویر میں بالخصوص عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر کیے جانے والے مبینہ بہیمانہ مظالم کی جھلک نمایاں نہیں ہوتی۔ سن 2004 میں امریکی میڈیا میں جاری کی جانے والی کچھ تصاویر میں ابو غریب ميں چند برہنہ قیدیوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔

ان تازہ تصاویر کو منظر عام پر لانے کے لیے ’امریکن سول لبرٹیز یونین‘ ACLU نے انتہائی اہم کردار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے سن 2004ء میں فریڈم آف انفارمیشن کے قوانین کے تحت عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پینٹاگون ایسی دو ہزار تصاویر جاری کرے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ عراق و افغانستان میں قیدیوں کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

USA Pentagon Veröffentlichung Fotos Gefangene Misshandlungen

یہ تصاویر 2004ء تا 2006ء کے درمیانی عرصے کے دوران لی گئی تھیں



خبر رساں ادارے اے پی نے ACLU کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان تصاویر کے منظر عام پر آنے سے اندازہ ہو سکے گا کہ امریکی فوج نے عراق اور افغانستان ميں جنگوں کے دوران قیدی بنائے گئے افراد کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا تھا۔

اس ادارے نے کہا ہے کہ پینٹاگون کے پاس اب بھی کم ازکم اٹھارہ سو ایسی مزید تصاویر موجود ہیں، جو عام کر دینا چاہییں۔

سن 2009 میں امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ ان تصاویر کو عوامی سطح پر جاری کر دیا جائے گا لیکن کانگریس نے ایک خصوصی ایکٹ کے ذریعے تصاویر کے اجراء کو روک دیا تھا۔

اس وقت کانگریس کا کہنا تھا کہ اگر وزیر دفاع ان تصاویر کے اجراء کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں تو وہ انہیں جاری نہ کریں۔

گزشتہ نومبر میں امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا تھا کہ ان 198 امیجز کو جاری کرنا امریکی سلامتی کونسل کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہے۔

ابتدائی طور پر کہا جا رہا ہے کہ پانچ فروری کو جاری کردہ ان تصاویر میں سے ابو غریب جیل کی کوئی تصویر شامل نہیں ہے۔

امریکی فوجیوں کی طرف سے قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا اسکینڈل پہلی مرتبہ 2003ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ ابو غریب کی بدنام زمانہ جیل میں قیدیوں کو جسمانی اور جنسی طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں کے بعد پینٹاگون نے تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔