1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ناگزیر‘‘

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ملکی افواج کو کسی بھی ملک کی جانب سے حملے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ مسلح افواج کے دن کے موقع پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ مضبوط ایرانی فوج کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امن کی ضمانت ہے۔

default

ایرانی صدر نے امریکہ کے لئے سخت الفاظ کا استعمال کیا۔.محمود احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد افغانستان اور عراق سے اپنی افواج واپس بلائے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ان ملکوں میں امریکی افواج کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔’’امریکی فوج خطے سے واپس چلی جائے اور یہ درخواست نہیں بلکہ ایک حکم ہے۔ افغانستان اور عراق کے عوام کو اپنے داخلی معاملات خود ہی حل کرنے دئے جائیں۔‘‘

ایرانی صدر ملکی افواج کے دن کی تقریبات کے موقع پر تہران میں منعقدہ فوجی پریڈ میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا: ’’آج ایرانی فوج اس قدر مضبوط ہے کہ دشمن اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘

Iran testet neun Raketen bei Militärübungen am Persischen Golf

فوجی پریڈ میں میزائلوں کی نمائش بھی کی گئی

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی موٴقف اور تہران کی سوچ میں اختلافات کے باعث مغرب اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کے قتل عام یعنی ’’ہولوکاسٹ‘‘ کو ایک ’’فرضی کہانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل جلد صفحہ ء ہستی سے مٹ جائے گا‘‘۔

پریڈ میں فوج کی جانب سے مارچ کیا گیا اور ایرانی میزائلوں کی نمائش بھی کی گئی۔ ان میں کم اور درمیانے فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائل شامل تھے۔ پریڈ میں ’کروز‘ میزائل بھی شامل کئے گئے تھے۔

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جنگ کی صورت میں اسرائیل کا کوئی بھی کونہ محفوظ نہیں رہے گا۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ایران پر کسی حملے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی افواج اور مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

Iran_Army_Day_VAH101_404900517042008.jpg

ایرانی صدر فوجی پریڈ کی تقریب میں شامل

تہران میں ایرانی اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خُمینی کے مزار کے قریب منعقد ہونے والی اس پریڈ میں فوجی چھاتہ برداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں سے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگیں لگانے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

دریں اثناء ایرانی فوج کے جنرل احمد رضا پردستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران جلد ہی ملک کے جنوب میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کا آغاز کرے گا۔ ’فارس‘ نیوز ایجنسی سے گفتگو کے دوران جنرل پردستان نے ان جنگی مشقوں کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان میں کتنے فوجی حصہ لیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان مشقوں میں تمام فوجی شعبے شامل ہوں گے۔ جنرل پردستان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد ملک پر کسی حملے کی صورت میں دشمن کو ’’زبردست جواب‘‘ دینے کی تیاری ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی افواج کو پہلے ہی ہائی الرٹ کیا جا چکا ہے۔ تہران کا موٴقف ہے کہ اس کی فوج کسی ملک پر حملے کے لئے تربیت کی حامل نہیں ہیں تاہم مغربی خدشات ہیں کہ ایران اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM