1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراق: امریکی افواج کے انخلاء کی تیّاریاں

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے ملک سے انخلاء کے بعد عراق کی سیکیورٹی فورسز صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

default

عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی


Irakische Regierung übernimmt Kotrolle über Sahwa-Kämpfer

کیا عراق کی اپنی سیکیورٹی فورسز امن بحال رکھنے میں کامیاب ہو پائیں گی؟


طے شدہ پروگرام کے مطابق عراق کے بڑے شہروں سے امریکی افواج کا انخلاء جون کے آخر تک مکمل ہونا ہے۔ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کے مطابق عراق کی سیکیورٹی فورسز امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ان شہروں کی سیکیورٹی کو قابو میں رکھنے کی اہل ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما کو بھی کچھ یہی امید ہے تاہم انہوں نے بعض معاملات پر عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا ہے۔

عراق سے امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلاء سے قبل ایک ہفتے کے دوران عراق میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں، دارالحکومت بغداد اور کرکک میں ہونے والے خود کش بم حملوں کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ جمعہ کے روز بغداد کے ایک بازار میں بم دھماکے کے نتیجے میں تیرہ افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

Merkel in Washington

امریکی صدر اوباما اور جرمن چانسلر میرکل

امریکی اور عراقی حکّام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی افواج کے انخلاء سے قبل بم دھماکوں اور تخریب کاری کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

جمعہ کے روز امریکہ کے دورے پر گئیں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ انہیں عراق کی سیکیورٹی فورسز پر اعتماد ہے تاہم بعض معاملات ایسے ہیں جن پہ پیش رفت ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عراق میں شیعوں، سنّیوں اور کردوں کے درمیان تیل کی دولت کی تقسیم جیسے مسائل پر اتفاق ہونا باقی ہے۔ اس کے علاوہ عراق میں مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ بھی ابھی طے ہونا باقی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی تیل کمپنیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد عراق میں دوبارہ کام کرسکیں گی۔

DW.COM