1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق : امریکی افواج کا انخلاء

امریکی یلغار کے سات برس بعد عراق میں امریکہ کا جنگی مشن ختم ہو گیا ہے۔ عراق میں تعینات اور جنگی کارروائیوں میں حصے لینے والے امریکی فوجیوں کا آخری دستہ بھی آج جمعرات کو عراقی سرزمین کو خیر باد کہتا ہوا کویت پہنچ گیا۔

default

امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق سیکنڈ انفنٹری ڈویژن کی چوتھی سٹرائیکر بریگیڈ جعمرات کو علی الصبح کویت پہنچ گئی۔ اپنے مقررہ وقت سے دو ہفتے قبل ہی عراق میں تعینات امریکہ کے اس آخری جنگی فوجی دستے کے انخلاء کے بارے میں اُس وقت تک صحافیوں کو کچھ بھی نہیں بتایا گیا جب تک کہ یہ فوجی کویت نہیں پہنچے تھے۔

امریکی فوج کے ترجمان رسل وارنینڈو نے بتایا کہ یہ فوجی جلد ہی واپس امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے وقت کی کسی میعاد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان پی جے کراؤلی کے بقول عراق میں امریکی فوجی مداخلت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اب واشنگٹن حکومت کی توجہ جنگی کارروائیوں کے بجائے بغداد حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے پر مرکوز ہو گی۔

اب بھی کوئی 50 ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں، جو سن 2011ء تک وہاں عراقی حکومت کی مشاورت اورامریکی مفادات کے تحفظ کا کام کریں گے۔ اس کے علاوہ چھ ہزار اضافی امریکی فوجی رواں ماہ کے اختتام تک عراق میں ہی رہیں گے۔

US Truppen in Irak Soldat spricht mit irakischen Schülern

ایک امریکی فوجی عراقی بچوں کے ساتھ

پی جے کراؤلی نے ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ''ہم جنگ ختم کر رہے ہیں لیکن ہم عراق میں اپنا کام ختم نہیں کر رہے۔ عراق کے لئے ہم طویل المدتی بنیادوں پر کام کریں گے۔'' انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکہ نے ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اس سرمایہ کاری کا تحفظ بھی امریکہ ہی کی ذمہ داری ہے۔''

عراق باڈی کاؤنٹ نامی ایک آزاد اور غیر جانبدار تحقیقی گروپ کے مطابق عراق میں امریکہ کی سات سالہ جنگ کے دوران شہری ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق عراقی جنگ کے دوران اس کے 4415 فوجی ہلاک ہوئے۔

عراق سے امریکی جنگی دستوں کے انخلاء کے ساتھ ہی وہاں امریکہ کے نئے سفیر نے بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ عراق کے لئے نئے امریکی سفیر جیمز جیفری نے اپنی یہ ذمہ داریاں اس وقت سنبھالی ہیں جب اس ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عراقی پارلیمانی انتخابات کے پانچ ماہ بعد بھی وہاں ابھی تک نئی حکومت کا قیام ممکن نہیں ہو سکا۔

سات مارچ کو ہوئے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والا سب سے بڑا سیاسی اتحاد، سنی سیاسی جماعتوں کا ہے، جس کی صدرات ایاد علاوی کر رہے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والا اتحاد وزیر اعظم نوری المالکی کا ہے۔ اس اتحاد میں شیعہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت ہے۔

کسی مخلوط حکومت کی تشکیل میں ایک بڑی رکاوٹ وزیر اعظم کا منصب ہے۔ المالکی اورعلاوی دونوں ہی یہ عہدہ چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے عراق میں سیاسی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM