1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی کُردوں کو اسلحے کی فراہمی روکی جائے، جرمن ماہرین

سن دو ہزار سولہ کی امن رپورٹ میں عرب ممالک کے حوالے سے جرمنی کی خارجہ پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کُرد جنگجوؤں یا پیش مرگہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

جرمنی میں امن پر تحقیق کرنے والے اداروں نے عراقی کردوں کو اسلحے کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں امن رپورٹ دو ہزار سولہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کُردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی پالیسی خطروں سے خالی نہیں ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ بدستور موجود ہے کہ فراہم کیے جانے والے جرمن ہتھیاروں کو آگے فروخت کیا جا سکتا ہے اور اس اقدام سے عراق میں اندرونی طاقت کی جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جرمن حکومت نے سن دو ہزار چودہ میں کُردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس کا مقصد کردوں کی داعش کے خلاف لڑائی میں انہیں مدد فراہم کرنا تھا۔

اس رپورٹ میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کو خطے میں ’’استحکام کی علامت‘‘ کے طور پر سمجھنا ایک ’’غلط فہمی‘‘ ثابت ہو سکتی ہے کیوں کہ سعودی عرب اس خطے میں ایران کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور ان دونوں ملکوں کی کارروائیاں یمن اور شام کو عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ میں جرمن فوج کی شام کے تنازعے میں شمولیت اور داعش کے خلاف کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جرمنی نے داعش کے خلاف بننے والے اتحاد میں شامل ہو کر اصولی طور پر غلطی کی ہے۔ رپورٹ میں مشورہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جرمنی کو اس اتحاد میں شمولیت کی بجائے اقوام متحدہ کے امن مشن کو ’’مضبوط‘‘ بنانے کے لیے کچھ کرنا چاہیے تھا۔ جرمن حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ اسے تیونس جیسے ملک کے لیے اپنی امداد میں اضافہ کر دینا چاہیے کیوں کہ اس ملک کو اندرونی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد درکار ہے اور داعش جیسی تنظیموں کو فوجی نہیں بلکہ سیاسی سطح پر شکست دینے کی ضرورت ہے۔

جرمنی میں امن رپورٹ سالانہ بنیادوں پر سن انیس سو ستاسی سے جاری ہو رہی ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری میں جرمنی کے متعدد تحقیقی ادارے مل کر کام کرتے ہیں۔