1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی کردستان کے انتخابی نتائج کا اعلان آج ہو رہا ہے

عراقی کردستان میں انتخابات کے ابتدائی سرکاری نتائج پیر کی شام تک آنے شروع ہوجائیں گے۔ تاہم ان نتائج کے منظر عام پر آنے سے قبل ہی مختلف علاقائی تنظیموں کے مابین جوڑ توڑ کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔

default

عراقی کرد خاتون 25 جولائی کے انتخابات میں ووٹ کاسٹ کر رہی ہے

Wahlen im Irak

KDP کی قیادت کردستان کے صدر مسعود بارزانی کے ہاتھ میں ہے

عراق میں انتخابات کے نگران اور خود مختار ملکی کمیشن کے مطابق عراقی کردستان کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کردوں کی ڈیموکریٹک پارٹی KDP اور ڈیموکریٹک یونین آف کردستان PUK کی کامیابی کے امکانات قدرے زیادہ ہیں۔ ان دونوں تنظیموں نے حزب مخالف کی چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کے مقابلے میں آپس میں اتحاد کرکے انتخابات میں حصہ لیا۔

کردستان کے صدر مسعود بارزانی کو اس امر کا پورا یقین ہے کہ ان کے پانچ حریفوں کو ان انتخابات میں ان کے ہاتھوں بری طرح شکست ہوگی۔ بارزانی نے ان انتخابات میں 70 فیصد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عراقی صدر جلال طالبانی کی ڈیموکریٹک یونین آف کردستان نے زیادہ تر نشستوں پر حکومتی اتحاد کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ عراقی کردستان میں اب تک بھی طالبانی اور بارزانی کی جماعتیں ہی اتحادیوں کے طور پر حکومت میں تھیں۔

اسی دوران گوران یا چینج نامی ایک نئی اپوزیشن پارٹی نے حکو متی الائنس پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے علاقائی انتخابات میں عراقی کردستان کے شہر سلیمانیہ میں زیادہ تر اور مجموعی طور پر ایک چوتھائی نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم کے ڈی پی کے ایک رہنما جبار یاور نے گوران کی جانب سے لگائے گئے الزامات کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو اگر کسی بے ضابطگی کی اطلاعات ہیں، تو انہیں انتخابی کمیشن کے پاس باقاعدہ شکایت درج کروانی چاہیے۔ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بائیں بازو اور اسلامی بنیاد پرستوں کے اتحاد کو 17 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔

Wahlen im Irak

ووٹر انتخابی فہرستوں میں اپنے نام تلاش کر رہے ہیں

گوران نامی پارٹی کی قیادت کے اس دعویٰ کے بعد کردستان میں سیاست کی بازی اب کچھ مختلف رنگ میں ڈھلتی دکھائی دے رہے ہے، کیونکہ ایک طرف کرد قیادت اور بغداد حکومت کے درمیان زمین اور تیل کے بٹوارے کے معاملات تنازعے کا شکار ہیں، تو دوسری جانب کرد اپوزیشن کو حاصل عوامی حمایت بڑھتی جارہی ہے۔

ماہرین کے مطابق عراقی کردستان میں انتخابات کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماضی کے برعکس، اس بار اپوزیشن جماعتیں حکومتی اتحاد کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کر اسمبلی میں ایک طاقتور حزب اختلاف کا کردار ادا کریں گی، جو سیاسی طور پر عراق کے اس نیم خود مختار خطے کے لئے خوش آئند بات ہے۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: مقبول ملک

DW.COM