1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی کابینہ کی تشکیل کا امکان

عراق میں نئی کابینہ گزشتہ روز تشکیل دی جانی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اب عراقی پارلیمان میں آج منگل کو نئی کابینہ سے متعلق ووٹنگ ہو گی۔

default

عراق میں مارچ میں ہونے والے انتخابات کے بعد حکومت سازی میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں اور اب لگتا ہے کہ کابینہ کی تشکیل بھی ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ گزشتہ روز نئی کابینہ کے لئے وزراء کا انتخاب ہونا تھا لیکن وزراء کے ناموں اور وزارتوں کی تقسیم پر تنازعہ کھڑا ہوگیا، جس کی وجہ سے ووٹنگ ملتوی کرنا پڑی۔

وزیراعظم نوری المالکی کے تجویز کردہ وزراء کے ناموں کی پارلیمان سے منظوری ہونا ضروری ہے۔ تاہم نوری المالکی کا گزشتہ شب کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ کس کوکیا وزارت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق جیسے ملک میں کابینہ سازی ایک بہت نازک اور مشکل کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں سب کو کوئی نہ کوئی جگہ دینی ہے اور صرف انہیں ہی نہیں جوکامیاب ہو کر پارلیمان تک پہنچے ہیں بلکہ ان کے بارے میں بھی سوچنا ہے، جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

حسن السینید کا تعلق نوری المالکی کی جماعت سے ہے۔ انہوں نے عراقی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم تجربہ کار کُرد سیاستدان ہو شیار زیباری کے علاوہ نائب وزیر پیٹرولیم عبدالکریم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اسی طرح وہ سنی رہنما رفیع العساوی کو وزیر مالیات بنا کر نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔

Nouri al Maliki Ministerpräsident Irak

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی

پارلیمان کے کئی ارکان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے جب تک کابینہ کی حتمی فہرست تیار نہیں ہو جاتی اور ہارس ٹریڈنگ ختم نہیں کی جاتی۔ شیعہ رکن اسمبلی عامر الکینانی کا کہنا تھا کہ وہ نامکمل حکومت کے لئے ووٹ نہیں دیں گے۔

عراقی کابینہ میں وزارتیں تقسیم کرتے وقت وزیر اعظم نوری المالکی کو شیعہ، سنی اور کُرد گروپوں کا خیال رکھنا ہے۔ گزشتہ ماہ ان کے تعاون سے ہی نوری المالکی دوسری مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر بیٹھے۔ عراقی عوام ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی حکومت سازی کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں تاکہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں تعمیر و ترقی کے کام میں تیزی آسکے۔ ساتھ ہی غیر ملکی تاجر بھی سیاسی طور پر مستحکم عراق میں ہی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایک جانب عراق میں سیاسی جماعتیں خارجہ، پیٹرول اور خزانہ جیسی کلیدی وزارتوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں تو دوسری طرف وزیر اعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ وہ حساس وزراتوں جیسے داخلہ، دفاع اور قومی سلامتی کے لئے ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے ہیں۔ بہرحال کابینہ کو ہر حال میں اس ہفتے کے آخر تک تشکیل دیا جانا ضروری ہے۔

رپورٹ عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM