1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی پارلیمان کا اجلاس، سنی اتحاد کا بائیکاٹ

عراق میں جمعرات کے روز ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں دوسری مدت کے لئے کرد رہنما جلال طالبانی کو ملک کا صدر اور شیعہ اتحاد سے وابستہ نوری المالکی کو ملک کا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ہے۔

default

درمیان میں موجود عراقی صدر جلال طالبانی کی ساتھیوں سے گفتگو

دوسری مدت صدارت پر فائز ہونے کے بعد جلال طالبانی نے عراقی عوام سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے حکومت سازی پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق کو عراقی عوام اور ان کے ارادے کی فتح قرار دیا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر باراک اوباما نے بھی عراق میں حکومت سازی کے لئے کئے جانے والے معاہدے کی تعریف کی ہے. G20 سربراہی کانفرنس کے اختتام پر جمعہ کے روز اوباما کا کہنا تھا،’یہ معاہدہ جدید عراق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے. مجوزہ حکومت عراقی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں اپنے ووٹ ڈالے۔ ایک مرتبہ پھرعراقی عوام نے اس بات کا ارادہ کیا ہےکہ وہ ان لوگوں کا ساتھ دیں گے، جوعراق کی ترقی چاہتے ہیں، نہ کہ ان لوگوں کا جوعراق کو فرقہ وارانہ اور دہشت گردی کی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘

حلف برداری کی تقریب کے بعد جلال طالبانی نے پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے سربراہ نوری المالکی کو عراق کی نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی۔

Irak Regierungsbildung

سابق عراقی وزیراعظم ایاد علاوی پارلیمنٹ میں آتے ہوئے

تاہم ایاد علاوی کے سنی پارلیمانی گروپ العراقیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور نئے منتخب اسپیکر اسامہ النجفی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا کیونکہ العراقیہ کے ارکان کو ایوان میں سابق صدر صدام حسین کی کالعدم جماعت "بعث پارٹی" کے ارکان پر لگائی گئی بندش کے معاملے پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

العراقیہ کے منتخب نمائندگان کو اجلاس میں دوبارہ شرکت پر آمادہ کرنے کی متعدد کوششیں کی گئی تھیں، مگر وہ ایوان میں واپس نہیں آئے۔ اس سے قبل عراقی پارلیمنٹ نے العراقیہ پارلیمانی گروپ سے تعلق رکھنے والے سنی رکن اسمبلی اسامہ النجفی کو اسپیکر اور کردستان اتحاد کے ایک قانون ساز کو ڈپٹی اسپیکر کے طور پر منتخب کیا گیا۔

Wahlen im Irak am 7. März 2010 Frühwähler

آٹھ مہینے قبل عراق میں عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا

سنی اتحاد العراقیہ کے رکن اسمبلی صالح المطلق کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کبھی بھی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی ، جس کی بنیاد ہی سیاسی اتفاق رائے کے خاتمے پر رکھی گئی ہو۔ سنی اتحاد العراقیہ نے نوری المالکی اور جلال طالبانی پر الزام عائد کیا کہ دونوں رہنماوں نے ان کے ساتھ طے کردہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

عراقی قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ نوری المالکی اور جلال طالبانی اپنے عہدوں پربرقرار رہیں گے۔ اس معاہدے کا مقصد حکومت سازی کے سلسلے میں گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری تعطل ختم کرنا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM