1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی پارلیمان نے انتخابی قانون منظور کر لیا

عراقی پارلیمانی نے آخر کار نیا انتخابی قانون منظور کر لیا ہے، جس سے آئندہ سال کے ابتدائی مہینوں میں پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

default

پارلیمان کے اسپیکر ایاد السماری کا کہنا ہے کہ یہ قانون کونسل برائے نمائندگان کے چیمبر میں تقریبا اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ انہوں نے قانون کی حمایت اور اس کے خلاف ووٹوں کا تناسب نہیں بتایا، جس کی وجہ اسے حاصل ہونے والی بھاری اکثریت ہے۔ اس قانون کی منظوری کے لئے بحث گزشتہ دو ماہ سے جاری تھی۔

صدر جلال طالبانی اور ان کے دو نائب عہدے داروں پر مشتمل صدارتی کونسل اب انتخابات کے لئے تاریخ کا اعلان کرے گی۔ تاہم پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لئے ووٹنگ آئندہ برس ستائیس فروری کو ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ نے بھی گزشتہ ہفتے عراقی انتخابات کے لئے ستائیس فروری کی تاریخ ہی تجویز کی تھی۔ تاہم بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات مارچ تک مؤخر ہو سکتے ہیں۔

قبل ازیں انتخابات سولہ جنوری کو ہونا طے پائے تھے، تاہم انتخابی قوانین کی منظوری میں حائل دقتوں اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث مؤخر کر دیے گئے تھے۔ عراقی آئین نے موجودہ حکومت کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ عام انتخابات جنوری کے آخر تک منعقد کرائے۔ عراق پر اتحادی افواج کے حملے کے بعد سے یہ دوسرے انتخابات ہوں گے۔ عراقی پارلیمان دو سو پچہتر نشستوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اب نئی حلقہ بندیوں کے بعد تین سو پچیس نشستوں کے لئے انتخابات ہوں گے۔

نئے قانون پر ووٹنگ کے بعد نائب صدر طارق الہاشمی اپنے ویٹو کے اختیار سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں۔ نائب صدر طارق الہاشمی نے سابقہ قانون کو ویٹو کر دیا تھا، جو آٹھ نومبر کو منظور کیا گیا

Irak Vizepräsident Tariq Al-Hashimi

عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی

تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس قانون کے تحت ملک کی سنی اقلیت کو کافی نشستیں حاصل نہیں۔ طارق الہاشمی خود بھی سنی مسلمان ہیں۔ عراق پر اتحادی افواج کے حملے کے بعد پرتشدد کارروائیوں سے بچنے کے لئے تقریبا چالیس لاکھ سنی ملک چھوڑ گئے۔

قانون کی منظوری کے لئے مقرر کردہ مدت اتوار اور پیر کی درمیانی شب ختم ہو رہی تھی اور پارلیمان میں ووٹنگ رات گئے ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ اور بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں نے اس قانون کی منظوری کے لئے ثالثی کی۔

امریکہ آئندہ سال عراق سے اپنے ہزاروں فوجیوں کا انخلاء چاہتا ہے اور وہاں انتخابات میں تاخیر سے انخلاء کا منصوبہ بھی مؤخر ہو سکتا ہے۔ عراق میں امریکہ کے ایک لاکھ پندرہ ہزار فوجی تعینات ہیں اور وہ 2011ء کے آخر تک وہاں سے مکمل انخلاء چاہتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM