1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی وزیر اعظم المالکی امریکہ کے دو روزہ دورے پر

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اتوار کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچ گئے۔ اُن کے اِس دورے کا مقصد گہرے گھاؤ لگانے والی طویل جنگ کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنا ہے۔

default

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی

اتوار کی شب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ عشائیے سے شروع ہونے والے اِس دو روزہ دورے کے دوران اصل مذاکرات کے سلسلے کا آغاز آج پیر سے ہو گا، جب المالکی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات عراق پر امریکی سرکردگی میں کیے جانے والے حملے کے آٹھ برس سے زیادہ عرصے بعد اور ایک ایسے وقت پر عمل میں آ رہی ہے، جب عراق سے امریکی فوجی دستوں کا انخلاء مکمل ہونے میں ایک مہینے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔

المالکی اپنے اِس دورے کے دوران نائب صدر جو بائیڈن اور دیگر امریکی عوامی نمائندگان کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے اور اُن کے ساتھ امن و سلامتی، توانائی، تعلیم اور انصاف جیسے شعبوں کے بارے میں مفصل بات چیت کریں گے۔

Obama kündigt Abzug der US-Armee aus dem Irak bis Ende 2011 an

المالکی امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے

یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت پر عمل میں آ رہی ہیں، جب عراق میں قومی سلامتی کے مشیر فلاح الفیاض نے اِسی مہینے کے آخر میں امریکی فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ عراق سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے تربیتی مشن کے بھی انخلاء کا ذکر کیا ہے۔ تاہم برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں موجود حکام نے اِس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیٹو کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’’اگر وہ ہمیں اپنے مشن میں توسیع کرنے کے لیے کہتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جو قانونی دائرہء کار پہلے سے طے ہے، اُس میں بھی توسیع کی جائے۔‘‘

عراق کا کہنا ہے کہ اُسے نیٹو کی طرف سے اپنا تربیتی مشن ختم کرنے کے فیصلے پر حیرت ہے کیونکہ ابتدائی طور پر نیٹو کے ساتھ اس بات پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ یہ مشن سن 2013ء کے آخر تک عراق میں رہے گا۔

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر فلاح الفیاض نے، جو واشنگٹن جانے والی پرواز پر المالکی کے ہمراہ تھے، اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نیٹو کی جانب سے بغداد حکومت کو اِس فیصلے سے گزشتہ جمعرات کو آگاہ کیا گیا ہے:’’ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ نیٹو نے عراق میں اپنا مشن ختم کرنے کی بات کی ہے۔ قانونی کارروائی سے مامونیت کا معاملہ ایسا ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔‘‘

جہاں ایک وقت میں عراق میں 505 اڈوں پر تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے، وہاں اس ماہ کے آخر تک عراق سے امریکی فوجی دستوں کا انخلاء مکمل ہو جانے کے بعد صرف تین اڈوں پر تقریباً چھ ہزار امریکی فوجی باقی رہ جائیں گے۔ 9 لاکھ سے زیادہ سپاہیوں پر مشتمل عراقی افواج کی تربیت کے لیے 157 امریکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ 763 ارکان پر مشتمل غیر فوجی عملہ بھی ابھی عراق ہی میں موجود رہے گا اور بغداد میں قائم امریکی سفارت خانے کی نگرانی میں رہتے ہوئے کام کرے گا۔

مئی سن 2006ء میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے نوری المالکی کا امریکہ کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ اِس میں وزیر خارجہ ہوشیار زیباری کے ساتھ ساتھ ثقافت، دفاع، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے امور کے وُزراء بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادھارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس