1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا دورہ امریکہ

امریکی صدر باراک اوباما نےعراقی وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات میں عراق کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ہے۔

default

امریکی صدر نے ملاقات کے موقع پر اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ امریکی افواج طے شدہ شیڈول کے مطابق 2011 کے آخر تک عراق چھوڑ دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں پرتشدد واقعات میں بتدریج کمی ہورہی ہے اور عراقی عوام اپنے مستقبل کی ذمے داری اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ صدر اوباما نے مزید کہا، " اب ہم عراقی انتظامیہ کوذمہ داریاں سونپنے اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفاد اور احترام کی بنیاد پر وسیع تعلقات کے فروغ کے مرحلے میں ہیں۔ اس مرحلےکی کامیابی امریکی عوام کے تحفظ اور خوشحالی کے لئے نہ صرف بہت ضروری ہے، بلکہ میری حکومت کی اہم ترجیح بھی ہے۔ "

Der irakische Premierminister Nouri al-Maliki

نوری المالکی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جرنل بان کی مون سے ملاقات میں عراق پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا

صدر باراک اوباما نے عراقی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراق پر سے بین الاقوامی پابندیاں ختم کروانے کے لئے امریکی حمایت کا یقین بھی دلایا، انہوں نے کہا، " میرا خیال ہے کہ عراق پر ان پابندیوں کو جاری رکھنا ایک غلطی ہوگی جو سابق آمر حکمران کے غلط اقدامات کے باعث لگائی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے ہمیں اقوام متحدہ کے مختلف ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔"

صدر اوباما نے عراقی صدر کو یقین دلایا کہ بہت جلد عراق اقوام متحدہ کی پابندیوں سے آزاد ہوگا۔ اس موقع پر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ مستقبل میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان تعلقات غیرعسکری تعاون پر مبنی ہوں گے۔

US-Offensive gegen Rebellenhochburg Tal Afar oder Tall Afar im Irak

صدراوباما نے کہا ہے کہ امریکی افواج طے شدہ شیڈول کے مطابق 2011ء کے آخر تک عراق چھوڑ دیں گی

عراقی وزیر اعظم نے صدر اوباما سے ملاقات سے قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کے علاوہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی۔ نوری المالکی نے سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ عراق پر سابق صدر صدام حسین کی دور میں لگائی جانے والی پابندیاں اٹھائی جائیں۔ مالکی کا کہنا تھا کہ چونکہ اب عراق ایک جمہوری ملک ہے جس سے بین الاقوامی امن کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہٰذا اسکے خلاف سابق صدر صدام حسین کی جانب سے 1990ء میں کویت پر حملے کے باعث لگائی جانے والی پابندیاں ختم کی جائیں۔ مالکی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو اس سلسلے میں عراقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسی برس 22 دسمبر کو عراق پر لگائی گئی پابندیوں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل