1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی معاملات میں مداخلت نہیں کررہے، ایران کی وضاحت

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عراق میں حکومت سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں کررہا بلکہ اس کی خواہش ہے کہ بغداد حکومت میں تمام حلقوں کو مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

default

ایرانی اعلیٰ ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ اور عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی ملاقات، فائل فوٹو

سات مارچ کو ہوئے عراق کے پارلیمانی انتخابات میں برتری حاصل کرنے والے سابق وزیراعظم ایاد علاوی اور مغربی ممالک ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ عراق میں شیعہ عقیدے کے حامل امیدواروں کی پشت پناہی کررہا ہے اور وہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔

Wahlen in den Irak Flash-Galerie

اقوام متحدہ اور مغربی مبصرین عراقی انتخابات کو شفاف قرار دے چکے ہیں

بغداد متعین ایرانی سفیر حسن کاظمی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ سرفہرست امیدوار مشترکہ حکومت تشکیل دیں۔ ان کے بقول انتخابی نتائج سے واضح ہوچکا ہے کہ کوئی بھی تنہا حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لہٰذا زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کسی بھی امیدوار کو تنہا کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔

پارلیمانی انتخابات کے بعد شیعہ عقیدے اور کرد آبادی کے نمائندوں کو تہران کے دورے کی دعوت دی جاچکی ہے۔ حالیہ انتخابات عراق پر امریکی حملے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد دوسرے عام انتخابات ہیں۔

ان انتخابات میں برتری حاصل کرنے والے سیکیولر نظریات کے حامل ایاد علاوی کو تہران نہیں بلایا گیا، جس پر وہ احتجاج بھی کرچکے ہیں۔

Kombo Ayad Allawi und Nuri al-Maliki

نوری المالکی اور ایاد علاوی

ایرانی سفیر نے صحافیوں کےساتھ حالیہ نشست میں واضح کیا کہ علاوی کے حامی دھڑے کے نمائندوں کو بھی آئندہ ہفتے ایران بلایا جائے گا۔ علاوی کو عراقی پارلیمان کی 325 میں سب سے زیادہ 91 نشستیں ملی ہیں، جن میں سنی آبادی کے ووٹوں نے اہم کردار نبھایا ہے۔ ان کے قریبی حریف موجودہ وزیرا عظم نوری المالکی کو 89 سیٹیں ملی ہیں۔ دونوں رہنما ایوان میں سادہ اکثریت کے لئے درکار کم از کم 163 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

عراق متعین امریکی سفیر کرسٹوفر ہل نے ایرانی سفیر کے تازہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ حکومت سازی کا معاملہ عراقیوں پر ہی چھوڑ ے۔ کرسٹوفر ہل نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت چند ہی ہفتوں میں قائم ہوجائے گی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM