1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی فورسز رمادی شہر میں داخل

عراقی سکیورٹی فورسز نے کامیاب پیش قدمی کرتے ہوئے رمادی شہر تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ مئی سے یہ شہر انتہا پسند گروہ داعش کے قبضے میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عراقی فوجی حکام کے حوالے سے بدھ بائیس دسمبر کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے مرکزی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے متعدد محازوں سے پیش قدمی شروع کی اور اب ان کی کوشش ہے کہ وہ شہر کے رہائشی علاقوں تک بھی پہنچ جائیں۔

DW.COM

عراق کے انسداد دہشت گردی کی فورس نے توقع ظاہر کی ہے کہ بہتر گھنٹوں میں اس شہر کو جہادیوں سے مکمل طور پر ’صاف‘ کر دیا جائے گا۔ اس ادارے کے ترجمان نعمان نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمیں جنگ جوؤں کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہیں ملی۔ ماہر نشانہ بازوں اور خود کش حملوں کا سامنا تھا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ یہ تو ہونا ہی ہے، اس لیے ہم نے ایسے حملوں سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔‘‘

عراقی فورسز نے منگل کی رات رمادی میں جہادیوں کو پسپا کرنے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا، جس کا مقصد اس شہر کو مکمل طور پر بازیاب کرانا تھا۔ عراقی سرکاری ٹیلی وژن پر جاری کردہ فوٹیج کے مطابق عراقی فورسز تباہ حال شہر رمادی کی خالی سٹرکوں پر گشت کرتی اور گھروں کی تلاشی لیتی دیکھی جا سکتی ہیں۔

رمادی کی بازیابی کے اس آپریشن کی سربراہی انسداد دہشت گردی کا ایلیٹ ادارہ کر رہا ہے، جس میں اسے امریکی اتحادی فوج کی فضائی کارروائی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور پولیس کے اہل کاروں کے علاوہ داعش مخالف سنی ملیشیا گروہ بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

عراقی فورسز کی کارروائی کی نتیجے میں حال ہی میں داعش کے جہادی متعدد مقامات پر پسپا پو چکے ہیں۔ عراقی شیعہ ملیشیاؤں نے بالخصوص تکریت اور بیجی میں ان شدت پسندوں کو شکست دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم یہ شیعہ فائٹرز رمادی کے آپریشن میں شامل نہیں ہیں کیوں کہ اس سے رمادی کی سنی اکثریتی آبادی میں فرقہ واریت کا خیال ابھر سکتا ہے۔

Irak Soldaten in Nord-Ramadi

سکیورٹی فورسز صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے مرکزی علاقوں تک پہنچ چکی ہے

انتہا پسند تنظیم داعش کے جہادیوں نے سترہ مئی کو رمادی کا مکمل کنٹرول سنبھالا لیا تھا۔ یوں گزشتہ تقریبا آٹھ ماہ تک انہیں سرنگیں بنانے کا وقت بھی مل گیا، جس سے زیادہ تر جہادی دیگر علاقوں میں فرار ہو چکے ہیں۔

عراقی فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے ہی بتایا تھا کہ اب اس شہر میں کوئی تین سو جہادی ہی بچے ہیں۔ عراقی فورسز نے نومبر میں اس شہر کا محاصرہ کیا تھا، جس کے بعد جہادیوں نے وہاں سے فرار کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔