1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے، المالکی

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراقی فوج ملک میں سلامتی کی ذمہ داریاں کامیابی سے ادا کرنے کی اہل ہے۔ یہ بات انہوں نے اعلیٰ ترین امریکی فوجی اہلکار مائیک مولن کے ساتھ ملاقات میں کہی۔

default

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی

امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن کے ساتھ بغداد میں اپنی بات چیت کے دوران عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراقی مسلح دستے اب اس قابل ہو چکے ہیں کہ اپنے ملک میں سلامتی کے فرائض خود انجام دے سکیں۔ایڈمرل مولن عراق کا دورہ کرنے والے وہ اعلیٰ ترین امریکی فوجی اہلکار ہیں، جو اس ملک سے امریکہ کے مستقبل قریب میں فوجی انخلاء سے پہلے کی تازہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں گئے۔

ایڈمرل مولن سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بوہنر نے بھی گزشتہ ویک اینڈ پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ عراق کا دورہ کیا تھا۔ جان بوہنر کے ساتھ ملاقات میں بھی نوری المالکی نے یہی کہا تھا کہ عراقی فوج کی عسکری صلاحیتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اور وہ داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داریاں انجام دے سکتی ہے۔

Mike Mullen

امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن

المالکی کی جمعرات کو ایڈمرل مولن کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ عراقی وزیر اعظم نے امریکی ایڈمرل کو بتایا کہ عراقی فوجی دستے بڑی پیشہ ورانہ لگن سے کام کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں المالکی نے امریکی فوج کے سربراہ کو بتایا کہ عراق اپنی فوج کی عسکری صلاحیت میں اضافے کا عمل جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی عراقی دستوں کو جدید ترین ساز و سامان اور ہتھیاروں سے بھی مسلح کیا جاتا رہے گا۔

ان دنوں کئی اعلیٰ امریکی اہلکار عراق کے دورے کر رہے ہیں۔ جان بوہنر کے دورے کے بعد اور ایڈمرل مولن کے دورے سے پہلے امریکی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل

Martin Dempsey نے بھی عراق کا دورہ کیا تھا۔ مائیک مولن کے دورہء عراق کے بارے میں امریکی فوج نے اپنی طرف سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

2003 ء میں صدام حسین کی حکومت کے خلاف فوجی کارروئی کے آغاز کے بعد عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک وقت پر قریب ایک لاکھ ستر ہزار تک بھی ہو گئی تھی۔ اب لیکن عراق میں امریکی فوجیوں کی کل تعداد پچاس ہزار سے بھی کم ہے۔ عراق اور امریکہ کے درمیان ایک طے شدہ معاہدے کے مطابق امریکہ کے ان فوجیوں کو بھی اس سال کے اختتام سے پہلے تک وہاں سے رخصت ہو جانا ہے۔

امریکہ کا ارادہ ہے کہ اگر بغداد حکومت نے درخواست کی تو امریکی فوج اس سال کے بعد کے عرصے میں بھی کسی دوسری حیثیت میں عراق میں قیام کر سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے بغداد حکومت کو امریکہ سے باقاعدہ درخواست کرنا ہو گی، جو اس نے ابھی تک نہیں کی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس