1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی علاقوں کے لیے عالمی بینک کی 400 ملین کی اضافی امداد

عالمی بینک نے عراق کے اُن علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے 400 ملین ڈالرز کی اضافی امداد کی منظوری دے دی ہے جو جہادی تنظیم داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے ہیں۔ یہ بات اس بین الاقوامی ترقیاتی بینک کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

ورلڈ بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ موصل کے ایئرپورٹ اور شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ ٹرمینلز اور ریلوے نیٹ ورک کی بحالی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے کے حوالے سے اسٹڈیز کو بھی فنڈ کرے گا۔
جنگ سے تباہ شدہ موصل کے قریب سات لاکھ شہری تاحال بے گھر
موصل کی بازیابی سے کیا عراق میں قیام امن ہو جائے گا؟

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’یہ پیکج عراق کے ایمرجنسی آپریشن فار ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے لیے اس 350 ملین ڈالرز کی فنڈنگ کے علاوہ ہے جو 2015ء میں منظور کی گئی تھی اور جو دیالہ اور صلاح الدین کے علاقوں کے سات شہروں میں تعمیراتی کاموں پر صرف کی جا رہی ہے۔‘‘

اس بیان کے مطابق یہ نئی فنڈنگ پانچ مختلف شعبوں میں تعمیر نو پر خرچ کی جائے گی، ان میں پینے کے پانی اور نکاسی آب، بجلی، صحت، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی سروسز شامل ہیں۔ اس فنڈنگ میں سے موصل کے تاریخی حصے میں موجود اُس ثقافتی ورثے کی مرمت اور تحفظ پر بھی رقم خرچ کی جائے گی، جنہیں لڑائی کے سبب شدید نقصان پہنچا۔

Irak Zerstörung und in Mossul

عراقی حکومت کے اندازوں کے مطابق موصل میں ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے سبب وہاں تعمیر نو پر کم از کم پانچ برس لگیں گے

عراقی حکومتی فورسز نے جنہیں امریکی سربراہی میں قائم اتحاد کی مدد بھی حاصل تھی، رواں برس مئی میں موصل کو قریب نو ماہ تک جاری رہنے والے ملٹری آپریشن کے بعد داعش کے قبضے سے چھڑایا تھا۔ اس عراقی شہر پر داعش نے 2014ء میں قبضہ کر لیا تھا۔

عراقی حکومت کے اندازوں کے مطابق موصل میں ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے سبب وہاں تعمیر نو پر کم از کم پانچ برس لگیں گے اور اس پر کئی بلین ڈالرز کی لاگت آئی گی۔

DW.COM