1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی شہر موصل کے قریب اجتماعی قبر سے پانچ سو لاشیں برآمد

عراقی شیعہ ملیشیا گروپوں کے اتحاد الحشد الشعبی کے مطابق موصل کے قریب ایک اجتماعی قبر سے پانچ سو کے قریب لاشیں ملی ہیں۔ الحشد کے مطابق ان سینکڑوں افراد کو داعش نے قتل کر کے ان کی لاشیں اس اجتماعی قبر میں پھینک دی تھیں۔

عراقی دارالحکومت بغداد سے ہفتہ گیارہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق الحشد الشعبی کے ملیشیا کارکنوں کو ان سینکڑوں انسانی لاشوں کی باقیات ایک ایسی اجتماعی قبر سے ملی ہیں، جو موصل شہر کے نواح میں بدوش کے جیل کے احاطے میں دریافت کی گئی۔

عراق اور شام کے وسیع تر علاقوں پر قبضہ کر لینے والی سنی عسکریت پسندوں کی جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے عراقی شہر موصل پر جون 2014ء میں کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

موصل کا خوبصورت چرچ، داعش کا پولیس آفس

مشکل پڑی تو البغدادی غائب

داعش کے غیرملکی جنگجو موصل سے فرار ہو رہے ہیں، امریکی جنرل

یہ وہی وقت تھا جب داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اس تنظیم کے کسی اجتماع میں اپنے منظر عام پر آنے کے اب تک کے واحد واقعے میں شام اور عراق میں داعش کے جہادیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ایک نام نہاد ’خلافت‘ کا قیام کا اعلان کر دیا تھا۔

Irak Kämpfe gegen IS in Mossul (Getty Images/AFP/A. Messinis)

موصل کے مشرقی حصے پر فوجی قبضے کے بعد اب مغربی حصے پر دوبارہ کنٹرول کے لیے عراقی دستوں اور داعش کے جہادیوں کے مابین لڑائی جاری ہے

عراقی فورسز نے موصل کا ایئرپورٹ داعش سے چھُڑا لیا

داعش ایک سال میں اپنے زیر قبضہ ایک چوتھائی علاقے سے محروم

اس وقت عراقی فوجی دستے امریکا کی قیادت میں سرگرم عسکری اتحاد کی مدد سے موصل شہر پر مکمل قبضے کے لیے اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ موصل بغداد کے بعد عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جس کے مشرقی حصے پر بغداد حکومت کے دستے اس سال جنوری کے مہینے کے آخر سے دوبارہ قبضہ کر چکے ہیں۔

اس وقت عراقی فورسز اور ان کے حامی ملیشیا گروپ اس شہر کے مغربی حصے پر کو بھی واپس اپنے قبضے میں لینے کی کوششوں میں ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک بڑا آپریشن انیس فروری کو شروع کیا گیا تھا، جو ابھی تک جاری ہے۔ اس اجتماعی قبر کی دریافت کے بارے میں جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ موصل شہر سے شمال مغرب کی طرف واقع یہ قبر بدوش نامی جس جیل کے احاطے میں دریافت کی گئی، اس پر عراقی سکیورٹی فورسز نے اسی ہفتے کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے یہ علاقہ داعش کے جہادیوں کے کنٹرول میں تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جون 2014ء میں جب داعش کے عسکریت پسندوں نے بدوش نامی گاؤں اور وہاں قائم اس جیل پر قبضہ کیا تھا تو اس دوران وہ 10 جون کے روز مبینہ طور پر اس جیل کے قریب 600 تک قیدیوں کے قتل عام کے مرتکب ہوئے تھے۔

DW.COM