1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی شہر فلوجہ میں نوّے ہزار شہری پھنسے ہوئے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراقی دارالحکومت کے قریب واقع شہر فلوجہ کو شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قبضے سے آزاد کرانے کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اس شہر میں قریب نوّے ہزار شہری پھنس کر رہ گئے ہیں۔

بغداد کے مغرب میں واقع اس شہر کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا ایک مضبوط ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے، تاہم عراقی فورسز اور شیعہ ملیشیا اس شہر کا گھیراؤ کر چکی ہیں اور رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہی ہیں۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی قیادت میں اتحادی طیاروں کی زبردست فضائی مدد کے باوجود سرکاری فورسز کو پیش رفت میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے، جب کہ ان جھڑپوں کی وجہ سے اس شہر میں قریب 90 ہزار عام شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے ان شہریوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب بتائی تھی۔

بغداد میں انسانی بنیادوں پر امداد کے شعبے کے لیے خصوصی عالمی مندوب لیِزا گرانڈے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے ٹیلی فون پر بات چیت میں کہا کہ اس شہر میں محصور عام شہریوں کو ایک ’خوف ناک‘ صورت حال کا سامنا ہے۔

Irak Falludscha Flüchtlinge vor Kämpfen

فلوجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی بھی کر چکے ہیں

عراقی دارالحکومت بغداد سے 50 کلومیٹر مغرب میں واقع اس شہر کو آئی ایس کے جہادیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے حکومتی فورسز نے 23 مئی کو بڑی عسکری کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم گزشتہ چھ ماہ سے اس شہر کے لیے ہر طرح کا سپلائی روٹ بند ہے اور وہاں موجود عام شہریوں کو انتہائی برے حالات کا سامنا ہے۔

لِیزا گرانڈے نے کہا، ’’فلوجہ میں پھنسے ہوئے شہریوں سے متعلق ہمارے اندازے درست نہیں تھے۔ جو لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، وہ بتا رہے ہیں کہ اس شہر میں اب بھی 80 تا 90 ہزار عام شہری موجود ہو سکتے ہیں۔‘‘

سرکاری فورسز کی کارروائی کے آغاز پر 20 ہزار سے زائد عام شہریوں نے کئی روز کا پیدل سفر کرتے ہوئے اس شہر سے نکلنے کی کوشش کی، تاہم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے ان افراد کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ ’بدقسمتی سے ان میں سے کئی شہری اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہمیں معلوم ہے کہ متعدد شہری راستے میں پڑنے والے ایک دریا میں ڈوب کر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘

گرانڈے نے عالمی برادری سے فوری امداد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں ریلیف آپریشن کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے عراق میں انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے 860 ملین ڈالر کی اپیل کی گئی تھی، تاہم ابھی تک ان رقوم کا صرف 30 فیصد حصہ ہی حاصل ہو سکا ہے۔