1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراقی زائرین قیمتی پتھروں کے تاجروں کے لیے منافع بخش

شیعہ مسلمانوں کے نزدیک ’مقدس‘ عراقی شہر نجف کی زیارت کو جانے والے افراد وہاں قیمتی پتھروں کے تاجروں کے کاروبار میں منافع کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ان زائرین کا تعلق پاکستان اور ایران کے علاوہ دیگر مسلم ممالک سے ہوتا ہے۔

محمد الغریفی جب بھی زیارت کے لیے نجف جاتے ہیں تو واپسی پر اُن کے ہاتھ میں قیمتی پتھر سے مزین کوئی نئی انگوٹھی ہوتی ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے نزدیک اس ’مقدس‘ عراقی شہر جانے والے زائرین کے لیے انگوٹھی خریدنا معمول کی بات ہے۔

غریفی نے اپنے انگلیوں میں پھنسی دو انگوٹھیوں سے کھیلتے ہوئے اے ایف پی کو بتایاکہ یہ اُن کے ذخیرے کا معمولی سا حصہ ہے۔ بحرین سے آئے اس ساٹھ سالہ  اس شخص کے مطابق انگوٹھیوں میں جڑے پتھروں کی قیمت بھلے کتنی ہی ہو لیکن یہ پتھر ان کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ نجف میں امام علی کے روضے کی زیارت کو جانے والے زیادہ تر زائرین کا تعلق ایران سے ہوتا ہے اور قیمتی پتھروں کے حوالے سے تقریباﹰ تمام کے ہی جذبات الغریفی سے الگ نہیں۔

ان پتھروں کا کاروبار کرنے والے پینتالیس سالہ فائز ابو غنیم نے اے ایف پی کو بتایا،’’ ان بیش قیمت پتھروں کے خریداروں کا تعلق  سعودی عرب، ایران، بحرین، پاکستان،کویت، لبنان اور عمان سے ہوتا ہے۔‘‘

ایک ایسے شہر میں جہاں پتھروں کا کاروبار کرنے والے متعدد خاندان ان جیم اسٹونز کے سائز اور تراش کے حوالے سے مشہور ہیں، زائرین پیغمبر اسلام کے داماد امام علی کے روضے کی زیارت کے فوراﹰ بعد ابو غنیم کی دکان میں داخل ہوتے ہیں۔ ابو غنیم کے مطابق ،’’ ان میں سے بہت سے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے تحفے کے طور پر تسبیح یا پتھر خریدتے ہیں۔‘‘

روضے کے سنہری گیٹ کے سامنے واقع نجف کے مرکزی بازار میں ابو غنیم کی طرح قیمتی پتھروں کے تاجروں کی زندگی کو شیعہ مذہبی کیلنڈر کنٹرول کرتا ہے۔ مذہبی اجتماعات کے دنوں میں بے پناہ زائرین نجف کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں پتھروں کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ بعض انگشتریوں کی قیمت تو ہزاروں ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

لیکن ہر زائر بڑی رقم خرچ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ستر سالہ عیسیٰ موسیٰ کا کہنا ہے کہ اب پتھروں کا کاروبار ترکی، ایران اور چین سے درآمد کی جانے والے ناقص مال کے باعث اچھا نہیں رہا۔ موسیٰ کے مطابق پہلے وہ جیولر ہوا کرتے تھے لیکن اب اُن کا بزنس محض انگوٹھیوں کی فروخت تک محدود رہ گیا ہے۔

کئی زائرین نجف سے انگوٹھی کی خریداری کو دینی رسم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بیالیس سالہ شیخ جسیم المندالاوی کے نزدیک فیروزے کا پتھر کامیابی حاصل کرنے کے لیے اچھا ثابت ہوتا ہے۔ نجف سے باہر ایک پسماندہ علاقے کے رہائشی ابو عباس کا ماننا ہے کہ ایک ایسا قیمتی پتھر جس پر کوئی قرآنی آیت یا اللہ کے نناوے نام کندہ ہوں، پہننے والے کی حفاظت کرتا ہے۔ 

DW.COM