1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی دستوں کی داعش کے گڑھ رمادی کی طرف کامیاب پیش قدمی

بغداد حکومت کے دستے داعش کے گڑھ اور مغربی عراقی شہر رمادی کی طرف اپنی کامیاب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں اس شدت پسند تنظیم نے ہزاروں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے عملاﹰ یرغمال بنا رکھا ہے۔

عراقی دارالحکومت سے بدھ نو دسمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق رمادی عراق کا زیادہ تر سنی آبادی والا شہر ہے، جہاں اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ نامی عسکریت پسند تنظیم کی، جو داعش بھی کہلاتی ہے، آخری سپلائی لائن کو بغداد حکومت کے مسلح دستوں نے گزشتہ ماہ نومبر میں منقطع کر دیا تھا۔

اب عراقی حکومت کی فورسز نے نہ صرف اس شہر کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے بلکہ وہاں عسکریت پسندوں کو پہنچنے والی ہر قسم کی ممکنہ عسکری مدد کو بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ لیکن اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ رمادی میں پھنسے ہزارہا عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

روئٹرز نے رمادی کے آٹھ مختلف شہریوں سے رابطہ کر کے شہر میں موجودہ صورت حال کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔ ان میں سے تین تو ابھی حال ہی میں کسی طرح اس شہر سے رخصت ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ باقی پانچ ہزاروں دیگر عراقیوں کی طرح ابھی تک اس شہر میں موجود ہیں۔ ان شہریوں نے بتایا کہ اس سال رمادی پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد سے اب تک صورت حال انتہائی خراب اور مزید تکلیف دہ ہو چکی ہے۔

رمادی کے ابو احمد نامی ایک شہری نے روئٹرز کو بتایا، ’’داعش کے جنگجو زیادہ سے زیادہ جارح اور شکی مزاج ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے سے روک دیتے ہیں۔ ہر وہ شہری جو ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے، اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ایسے پنجرے میں قید ہوں، جو چاروں طرف سے بند ہے۔‘‘

رمادی کا شہر دریائے فرات کی زرخیز وادی میں واقع ایک صوبائی دارالحکومت ہے، جو ملکی دارالحکومت بغداد سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے۔ رمادی پر قبضہ داعش کو ملنے والی ان سب سے بڑی عسکری کامیابیوں میں سے ایک تھا، جو اسے گزشتہ برس سے لے کر اب تک حاصل ہوئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ رمادی کو داعش کے قبضے سے چھڑا لینا عراقی فورسز اور حکومت کے لیے بہت بڑی فتح ہو گی، جن کے اتحادیوں میں امریکا سے لے کر ایران تک کئی ملک شامل ہیں۔ رمادی کے شہر پر اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو کس قدر سختی سے اپنی گرفت قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس بارے میں شہر میں سرگرم قبائلی فائٹرز کے ایک رہنما شیخ خطاب الامیر، جو خود رمادی سے باہر ہیں، کہتے ہیں کہ ان کا شہر میں موجود اپنے قبیلے کے افراد سے رابطہ ہے لیکن ان (قبائلیوں) کی نقل و حرکت بہت محدود ہو چکی ہے۔

Irak Offensive bei Ramadi

عراقی فورسز نے رمادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے

شیخ خطاب الامیر نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہمارے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ عسکریت پسند زیادہ سے زیادہ سختی کرتے ہوئے عام شہریوں سے قیدیوں کا سا سلوک کر رہے ہیں۔‘‘ روئٹرز نے لکھا ہے کہ رمادی میں اس وقت اشیائے خوراک کی مناسب فراہمی کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے اور عام شہریوں کو اسی بہت کم آٹے اور تھوڑی سی سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑتا ہے، جو عسکریت پسندوں کی طرف سے تقسیم کی جاتی ہیں۔‘‘

اسی شہر کے عمر نامی ایک شہری نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہمیں باسی روٹی اور گلے سڑے ٹماٹر تک کھانا پڑ رہے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگر کسی دن ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ بچا، تو مجھے شاید اپنی وہ بلی ہی مار دینا پڑے، جو ہم نے چند سالوں سے پال رکھی ہے۔‘‘