1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی دارالحکومت میں بم دھماکے، 12 افراد ہلاک

عراق میں آج اتوار کے روز ملکی وزارت دفاع کی ایک عمارت پر کئے گئے ایک خود کش حملے میں کم 12 افراد ہلاک اورمتعدد دیگر زخمی ہو گئے۔

default

آج بغداد میں کل تین بم دھماکے ہوئے

عراقی سکیورٹی دستوں کے ترجمان میجر جنرل قاسم عطا نے بتایا کہ حملہ آور ایک منی بس میں سوار تھا، جس نے خود کو مشرقی بغداد میں فوجی کمان ہیڈکوارٹرز کی عمارت کے عقبی دروازے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔

اس دھماکے کے بعد شہر کے اس حصے سے دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دکھائی دیئے۔ اس دھماکے سے قبل اسی جگہ پر ایک اور قدرے چھوٹا دھماکہ بھی ہوا تھا۔ عراقی وزارت دفاع کے چند ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آج شہر میں کل تین بم دھماکے ہوئے، جن میں کم ازکم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ تاہم آج جو خود کش بم حملہ ایک منی بس کے ذریعے کیا گیا، وہ چار روز پہلے عراق میں امریکی جنگی دستوں کے مشن کی تکمیل کے بعد سے اب تک کیا جانے والا سب سے بڑا بم دھماکہ تھا۔ایک عراقی خبر ایجنسی کے مطابق ان میں سے ایک بم حملہ بغداد کے باب المعظم نامی علاقے میں کیا گیا، جو کم ازکم ایک شخص کی ہلاکت اور چند دیگر کے زخمی ہونے کا سبب بنا۔

Anschlagsserie im Irak

بغداد میں ملکی وزارت دفاع کے زیر انتظام کام کرنے والافوجی کمان ہیڈکوارٹر دراصل فوجی بھرتی کے ایک مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں قریب تین ہفتے قبل بھی ایک بہت خونریز خود کش حملہ کیا گیا تھا۔ اگست میں کئے گئے اس حملے میں وہاں قریب 60 افرادہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں فوجی بھی شامل تھے اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند شہری بھی۔

عراقی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق آج ہی بغداد میں الدورہ کے علاقے میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا۔ یہ بم مبینہ طور پر ایک کار میں نصب کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور دو راہگیر زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ بغداد کے مشرقی علاقے الکمالیہ سے بھی سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے کی رپورٹیں ملی ہیں۔

Anschlagsserie im Irak

عراقی دارالحکومت میں آج کئے جانے والے بم حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اس لئے غیر واضح ہے کہ بغداد میں وزارت داخلہ کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ آج شہر میں ایک فوجی اڈے کوجس خود کش بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، اس میں دو فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔اس فوجی اڈے پر موجود ایک اعلیٰ افسر کے بقول حملہ آور پیدل تھا، جس نے صدر دروازے کے قریب آکر وہاں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔

اس کے برعکس بغداد میں سلامتی امور کے ترجمان ایک فوجی افسر نے بتایا کہ فوجی کمان ہیڈکوارٹرز پر حملہ کرنے والا عسکریت پسند ایک خود کش بمبار تھا، جس نے اپنی گاڑی کے ذریعے اس عمارت کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس