1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراقی خود مختارکردستان میں انتخابی عمل

عراق میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔خود مختار کرد علاقے میں پر امن الیکشن کا انعقاد عراقی سیاسی منظر نامے پر حوصلہ افزاء تصور کئے جا رہے ہیں۔

default

دو اہم کُرد سیاسی راہ نما: جلال طالبانی اور مسعود بارزانی (بائیں)

عراق کے خود مختارکُرد علاقے میں گذشتہ روز ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کُرد ووٹروں کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق تھا۔ شدید گرمی اور تپتا ہوئے موسم کے باوجود بھی تمام پولنگ سٹیشنوں پر لوگ جوق دو جوق ووٹ ڈالنے آئے۔ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے حکام کو پولنگ میں ایک گھنٹے کی توسیع کرنا پڑی۔ بڑے شہروں سلیمانیہ، اربیل اور ڈوہُوک میں انتہائی چہل پہل دیکھنے میں آئی۔

پولنگ کے بعد بڑے شہروں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا مگر حتمی نتائج کو مرتب کرنے میبں کئی دِن درکار ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کے صندوقوں کو پہلے مرحلے میں اربیل شہر پہنچایا جائے گا اور پھر اُن کی بغداد منتقلی کی جائے گی جہاں مرکزی سطح پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل کی جائے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ووٹنگ کا تناسب ساڑھے اٹھتر فی صد رہا جبکہ ڈوہُوک شہر میں نوے فی صد تک بتایا گیا ہے۔کُرد علاقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پچیس لاکھ سے زائد ہے۔

Die Kurden feiern in Irak Nawrus (Neues Jahr)

ایک کرد خاتون


ماہرین کا خیال ہے کہ نیم خود مختار علاقے میں ہونے والے الیکشن آنے والے ماہ و ایام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

اِس انتخابی عمل سے کُرد لیڈر شپ کو اپنے زمینی معاملات کے حوالے سے بغداد کی مرکزی حکومت کے ساتھ کئی اُمُور پر بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ساتھ ہی کُرد سیاسی قیادت بغداد حکومت کے ساتھ سولہ سرحدی قصبوں اور شہروں کے مسئلے پر بھی بات کرے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ الیکشن کے بعد بننے والی حکومت تیل کے حوالے سے مزید اختیارات کی طلب گار ہو سکتی ہے۔ یکم جون سے کُرد حکومت نے تیل نکالنے اور برآمد کرنے کا عمل محدود سطح پر شروع کر رکھا ہے۔ اِن میں تیل کی دولت سے مالامال کِرکُوک شہر بھی شامل ہے جس کی سنی عرب اور تُرک آبادی مشترکہ طور پرکُرد علاقے میں شمولیت پر تیار نہیں ہے۔

Jahresrückblick Mai 2006 Irak Regierung

کرد سیاسی لیڈران اور عراقی وزیر اعظم نوری المالکی

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کرد علاقے کے انتخابات کو عراق کے اندر جمہوری اقدار کے فروغ اور اُن کے استحکام کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔ کچھ دوسری سیاسی جماعتیں اِس حوالے سے تحفظات بھی رکھتی ہیں۔

کُرد علاقے کے انتخابی عمل کا ایک دلچسپ پہلُو یہ بھی تھا کہ صدام حسین کے دورِ حکومت میں کُردوں کی انتہائی فعال گوریلا تنظیم پیش مرگ کے اہلکار اب عراقی فوج اور پولیس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے تھے۔

موجودہ الیکشن کا منظر نامے ایک نئی اپوزیشن جماعت کے باعث کافی متحرک رہا۔ نئی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر نوشیروان مُصطفیٰ ہیں۔ وہ اِنتہائی امیر کارباری شخصیت ہیں۔ وہ جلال طالبانی کی سیاسی جماعت کے ساتھ ماضی میں وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ کچھ چھوٹی پارٹیوں کے تعاون سے دونوں بڑی جماعتوں کے اراکین کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بظاہر کُرد علاقے کے صدر مسعود بارزانی کی کُردستان جمہوری پارٹی اور عراق کے صدر جلال طالبانی کی کُردستان پیٹریاٹک یونین کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔

جلال طالبانی اور مسعود بارزانی کی سیاسی جماعتیں صدام دور میں ایک دوسرے خلاف زوردار محاذ آرائی کر چکی ہیں۔ اُس کشیدگی میں بے شمار افراد ہلاک ہوئےتھے۔ اربیل پر مسعود بارزانی قاضب تھے تو سلیمانیہ پر جلال طالبانی کا قبضہ تھا۔ نوے کی دہائی کا دور کرد سیاست میں سیاسی جوڑتوڑ ،جھڑپوں اور ہلاکتوں سے عبارت تھا۔

کُرد علاقے میں پولنگ ختم ہونے سے قبل چار کمیونسٹ اور ایک مذہبی جماعت نے دونوں بڑی پارٹیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ ووٹرز کو بھی ووٹ ڈالنے لا رہے ہیں اور اِن اتخابات میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدوار جعلی ووٹ بھگتانے کی ہر کوشش میں مصروف رہے۔ اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا۔

ملتے جلتے مندرجات