1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی تیل کی پیداوار 20 برس کی بلند ترین سطح پر

عراق کے نئے وزیر پٹرولیم عبدالکریم العیبی نے کہا ہے کہ عراق میں تیل کی پیداوار 2.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 20 برس کے دوران بلند ترین سطح ہے۔

default

27 دسمبر کو اپنا عہدہ سنبھالنے کی باقاعدہ تقریب کے بعد العیبی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آج ہماری پیداوار 2.6 ملین بیرل روزانہ تک پہنچ گئی ہے، یہ پیداواری صلاحیت گزشتہ 20 برس سے بھی زائد عرصے کے دوران حاصل نہیں کی جاسکی تھی۔‘‘ عبدالکریم العیبی اس سے قبل پٹرولیم کے نائب وزیر تھے۔ انہوں نے سابق وزیر پٹرولیم حسین الشاہرستانی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ شاہرستانی عراق کے نائب صدر مقرر کئے گئے ہیں۔

Öl im Irak

عراق کی مرکزی حکومت سے تنازعے کے بعد نیم خودمختارکردستان نے ایک لاکھ بیرل یومیہ تیل کی پیداوار روک دی تھی۔

العیبی نے اس موقع پر ملکی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں معلوم ہے کہ عراق کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، ملکی ضروریات کے لئے درکار اشیاء اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرنے جیسے تمام معاملات کے لئے درکار رقوم تیل کی برآمد سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کا یقین ظاہر کیا کہ عراقی وزارت پٹرولیم ان تمام چیلنجز پر پورا اترے گی۔

عبدالکریم العیبی نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی وزارت ملک میں تیل اور گیس کے مزید ذخائر کی تلاش میں نہ صرف سرگرمی دکھائے گی بلکہ پہلے سے موجود ذخائر سے حاصل ہونے والے خام تیل سے تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی زیادہ تیاری کی بھی منصوبہ بندی کی جائے گی، جس میں نئی آئل ریفائنریز کا قیام بھی شامل ہوگا۔

عراق کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے، جن کے پاس دنیا بھر میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم یہ ملک ان کوششوں میں مصروف ہے کہ کسی طرح اپنے ہاں تیل کی روزانہ پیداوار تین ملین بیرل یومیہ تک لے آئے۔ یہ وہ پیداواری صلاحیت ہے جو کئی سال قبل اس وقت عراق کے پاس موجود تھی، جب اس نے ابھی کویت پر حملہ نہیں کیا تھا۔

Irak Oil for Food Program

"عراقی تعمیروترقی کے لیے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی رقوم انتہائی اہم ہیں۔"

عبدالکریم العیبی کو گزشتہ ہفتے وزیر پٹرولیم مقرر کیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگلے چھ سے سات برسوں کے دوران ملکی پیداوار 12 ملین بیرل یومیہ تک لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ العیبی نے اس یقین کا بھی اظہار کیا تھا کہ ملک کے نیم خود مختار کُرد علاقوں سے بھی تیل کی پیداوار جلد شروع ہو جائے گی۔

عراقی کردستان سے تیل کی ایک لاکھ بیرل یومیہ پیداوار اس وقت بند کر دی گئی تھی، جب مرکزی حکومت اور کردستان کے درمیان تیل کے ذخائر کی تلاش اور پیداوار کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدوں پر اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ یہ معاہدے نیم خود مختار کُرد حکومت کی طرف سے غیرملکی کمپنیوں سے کئے گئے تھے، جنہیں مرکزی حکومت نے یہ کہہ کر غیرقانونی قرار دے دیا تھا کہ کُرد حکومت ایسے معاہدے کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس