1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی انتخابات میں مالکی برتری لئے ہوئے

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق وزیر اعظم نوری المالکی کو دیگر جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔ حالیہ انتخابات عراق پر امریکی حملے اور صدام دور کے خاتمے کے بعد کے دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

default

وزیر اعظم نوری المالکی کا تعلق اگرچہ شیعہ مکتبہ فکر سے ہے تاہم انہوں نے انتخابی مہم میں اس شناخت کو ابھارنے کے بجائے خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جس نے فرقہ ورانہ خون خرابے کی فضاء میں سلامتی بحال کی۔ اتوار کے پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیر اعظم مالکی کو شیعہ اکثریتی علاقے میں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ عراق کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق حتمی نتائج کا اعلان چند ہی دنوں میں، ممکنہ طور پر جمعرات کو کردیا جائے گا۔

اندازوں کے مطابق عراق کے اٹھارہ میں سے نو صوبوں میں مالکی کے حامی اتحاد کو سبقت حاصل ہے۔ حتمی نتائج کے حوالے سے دارالحکومت بغداد کے حلقوں میں ڈالے گئے ووٹ انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم مالکی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں دارالحکومت بغداد اور جنوب میں شیعہ اکثریتی علاقے میں اچھے ووٹ پڑے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مالکی کے حریف سابق وزیر اعظم اور سیکیولر نظریات کے حامل شیعہ سیاستدان ایاد علاوی کو سنی آبادی میں زیادہ ووٹ ملے۔

Iyad Allawi

ایاد علاوی

بغداد حکام کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 62 فیصد رہی جو 2005ء کی مبینہ 76 فیصد سے کم ہے۔ تین شمالی خود مختار کرد صوبوں میں البتہ یہ تناسب 80 فیصد تک جانے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ کرد آبادی کے علاقے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ پر امن تصور کئے جارہے ہیں۔ عراقی الیکشن کمیشن کے عہدیدار حمیدیا الحسین کے مطابق اٹھارہ مارچ تک حتمی فیصلے کا اعلان کردیا جائے گا۔

دوبارہ عراقی وزارت عظمیٰ کے خواہش مند نوری المالکی کی حکومت 2005ء میں سیاسی جماعتوں کے مابین ایک سمجھوتے کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ حالیہ انتخابات میں ایاد علاوی کے علاوہ المالکی کے دوسرے بڑے حریف شیعہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے رہنما مقتدیٰ الصدر ہیں۔

Parlmentswahlen Irak Mann auf Fahrrad

ایک پرجوش عراقی ووٹر

بغداد یونیورسٹی کے پروفیسر حامد فضل کے مطابق مالکی چونکہ نہ سیاسی جماعتوں میں زیادہ مقبول ہیں اور نہ ہی ان کے کردوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں لہزا ان کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے امکانات کم ہیں۔

پروفسیر حامد کے بقول عراق کی سنی آبادی صدام حسین کی ’بعث پار‌ٹی‘ سے تعلق کے سبب اپنے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک کا ذمہ دار بھی وزیر اعظم مالکی کو ٹہراتے ہیں۔ مالکی کے حامی دوسری جانب دعویٰ کر رہے ہیں کہ 325 رکنی پارلیمان میں انہیں 100 نشستیں حاصل ہوجائیں گی۔ کسی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں سیاسی جوڑ توڑ او وفا داریاں خریدنے کے طویل سلسلے کا امکان ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM