1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی آئل فیلڈز کی بولی، بڑی کمپنیاں شریک

عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعہ کو عراقی آئل فیلڈز کی ایک بولی لگائی گئی، جس میں پٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی بڑی کمپنیوں نے حصہ لیا۔

default

عراق پر سن 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے تیل کے کاروبارکے حوالے سے عراقی آئل فیلڈز پر لگائی گئی یہ دوسری بڑی بولی تھی۔ جمعہ کو عراقی وزیر پٹرولیم حسین الشاہ ریستانی نے اس بولی کی تفصیلات بیان کیں۔ ریستانی کے بقول حالیہ بولی کے تحت دو بڑے تیل کے ذخائر، مجنون اور ہفایہ کو ڈویلپ کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ مجنون آئل فیلڈ پر لگائی گئی بولی برطانیہ اور ہالینڈ کی کمپنی شیل نے ملائشیا کی ایک کمپنی پیٹروناز کے ساتھ تعاون سے جیت لی ہے جبکہ ہفایہ آئل فیلڈ، جوکہ مجنون آئل فیلڈ سے قدرے چھوٹی ہے، پر لگائی گئی بولی معروف فرانسیسی کمپنی ٹوٹل اور چینی آئل کمپنی CNPC نے مشترکہ طور پر جیت لی ہے۔

مجنون آئل فیلڈ پر، فی بیرل پیداوار کے لئے شیل اور پیٹروناز نے 1.39 ڈالر کی پیشکش کی جبکہ یومیہ 1.8 ملین بیرل تیل کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مجنون آئل فیلڈ کا معاہدہ حاصل کرنے میں فرانسیسی کمپنی ٹوٹل اور چینی CNPC نے بھی کوشش کی لیکن شیل اور پیڑوناز نے انہیں مات دے دی۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شیل اور پیٹروناز کی اس کاروباری جیت پر ٹوٹل اور سی این پی سی مایوس ضرور ہوئی ہیں کیونکہ عراقی پر امریکی حملے سے پہلے ان کمپنیوں کے صدام حسین کے ساتھ بہتر کاروباری روابط تھے اور ان کو کسی حد تک یقین تھا کہ مجنون آئل فیلڈ پر کام کرنے کے حقوق انہی کو حاصل ہوں گے۔

دوسری طرف حالیہ بولی میں ایک حیران کن امر یہ بھی رہاکہ کسی بھی کمپنی نے مشرقی بغداد میں واقع ایک بڑی آئل فیلڈ کے لئے دلچسپی ظاہر نہیں۔ تیل کے ذخیرے کے حساب سے یہ فیلڈ چند بڑے ذخائر میں شمار کی جاتی ہے لیکن چونکہ یہ صدر سٹی کے قریب ہے، جہاں گزشتہ کئی سالوں سے تشدد کے واقعات میں کمی نہیں ہوسکی۔ شاید اسی لئے کاروباری نقطہ نظرسے کسی بھی کمپنی نے اس وقت صدر سٹی میں واقع اس آئل فیلڈ میں سرمایہ کاری کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

بغداد میں منعقد ہونے والی اس بولی کی تقریب میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی تھی، حفاظتی انتظامات کے تحت وزارت پٹرولیم کی عمارت کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے رہے۔ عمارت کی طرف آنے والے تمام راستوں پر بڑی تعداد میں سیکیورٹی دستے تعینات کئے گئے تھے۔

رپورٹ : عبدالرؤف انجم

ادارت : ندیم گِل