1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدن کے اہم فوجی مرکز میں عسکریت پسند داخل

جنوبی یمنی شہرعدن کے ایک فوجی بیس میں عسکریت پسندوں نے داخل ہو کر قبضہ کر لیا ہے۔ عدن کے فوجی حکام کے مطابق اس بیس کو فوج نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ اب تک دو درجن سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

یمن کے بندرگاہی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قرب میں واقع السُل بان ملٹری بیس میں داخل عسکریت پسندوں کے ساتھ یمنی فوج کی جھڑپوں میں پانچ فوجیوں اور بیس حملہ آوروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ یہ حملہ عین عیدالفطر کے دن کیا گیا۔ یمنی فوجیوں کو سعودی فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔ السُل بان بیس یمنی فوج کا ہے اور سعودی افوج عدن کے وسط میں واقع ایک دوسرے بیس پر متعین ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اِس اہم بیس میں داخل عسکریت پسند کس جہادی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یمن میں القاعدہ کی ذیلی شاخ کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ بھی متحرک ہے۔ عدن شہر کے اندر کیے گئے کئی حملوں کی ذمہ داری’اسلامک اسٹیٹ‘ قبول کر چکی ہے۔ دوسری جانب یمن کے ایک دوسرے بندرگاہی شہر المکلا میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو منصور ہادی کی فوج نے مار بھگایا تھا۔ اس کے جواب میں القاعدہ المکلا میں عراق فوج پر ایک بڑا خود کش حملہ کر چکی ہے جس میں چالیس سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

Colonel Abdullah bin Sahyan Jemen Saudische Truppen Aden

یمنی فوجیوں کو سعودی فوج کی مدد بھی حاصل ہے

فوجی کارروائی کے دوران ایک فوجی افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بیس کے اندر موجود فوجیوں پر کیا بیتی ہے، اُس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ قابض عسکریت پسندوں کے ساتھ فوجیوں کی وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ ملٹری بیس پر قبضہ کرنے والے شدت پسند فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ السُل بان نامی فوجی مرکز عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نواحی علاقے میں واقع ہے۔

قبل ازیں صبح کے وقت السُل بان ملٹری بیس پر دو بارود سے بھری کاروں کے ساتھ خود کش حملہ کیا گیا تھا۔ اِس ابتدائی حملے میں چھ فوجی مار گئے تھے۔ اِس بم حملے کے بعد عسکریت پسندوں اور یمنی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا تھا اور اسی فائرنگ کے تبادلے کے دوران پندرہ سے بیس جنگجو فوجی مرکز میں داخل ہو گئے۔ عدن کے فوجی ذرائع کے مطابق ان کار بم حملوں اور داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کا تعلق یقینی طور پر جہادی عناصر سے ہے۔

عدن شہر پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی صدر منصور ہادی کی حامی فوج کا کنٹرول ہے۔