1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدم رواداری کا الزام لغو ہے: بھارت

بھارت نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اس رپورٹ کو لغو قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جس میں نریندر مودی حکومت پر عدم رواداری کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔



امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف ) نے یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع کی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی صدر باراک اوباما سے دوطرفہ ملاقات اور امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے اگلے ماہ کے اوائل میں واشنگٹن جانے والے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے تحت کام کرنے والے مذکورہ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2015 ء میں بھارت میں مذہبی رواداری کی صورت حال ابتر ہوئی ہے اور مذہبی رواداری کو پامال کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتی فرقوں بالخصوص مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو دھمکانے، ہراساں کرنے اور ان پر تشدد کے ان گنت وارداتیں ہوئیں اور ان بیشتر واقعات میں ہندو قوم پرست گروپوں کی جارحیت سامنے آئی ہے۔ پولیس

اورانتظامیہ کی جانبداری اور عدالتی فیصلوں میں تاخیر سمیت متعدد اسباب نے مل کر ایک ایسا ماحول بنادیا ہے جس میں مذہبی اقلیتیں خود کو نہایت غیر محفوظ تصور کرتی ہیں او ریہ سمجھتی ہیں کہ مذہبی تعصب کی بنیاد پر جو جرائم ہوتے ہیں ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔

رپورٹ میں بھارتی وزارت داخلہ کے دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2015 ء میں سابقہ برس کے مقابلے میں فرقہ وارانہ تشددکے واقعات میں سترہ فیصد کا اضافہ ہوا اور تشدد کے ان واقعات میں 97 افراد ہلاک اور2246 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں اس کی وجہ 2014 ء کے عام انتخابات کے دوران مذہبی بنیاد پر انتخابی مہم قرار دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ مئی 2014 ء میں قوم پرست ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) پہلی مرتبہ زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں بی جے پی کے ممبران پارلیمان یوگی آدتیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بیانات دیے ، جن سے ماحول خراب ہوا۔

Minderheiten in Indien

بھارت میں آباد مختلف اقلیتی گروپ اپنے مذہبی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں



رپورٹ کے مطابق تبدیلی مذہب قانون کی آڑ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ دسمبر 2014ء میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے ’گھر واپسی‘ پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کے تحت لاکھوں مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوبارہ ہند و بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن اس معاملے پر ملک اور بیرون ملک زبردست نکتہ چینی کے بعد بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس نے پروگرام کو ملتوی کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے کے لیے ملک بھر میں قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ عیسائیوں اور مسلمانوں کو مزید ہراساں کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمیشن رواں سال کے دوران بھی صورت حال پر کڑی نگاہ رکھے گی اور اس کا تعین کرے گی کہ کیا بھارت کو امریکی محکمہ خارجہ کی اس فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی جائے جو خاص فکر مندی کا ملک سمجھا جاتا ہے۔

بھارت نے اس رپورٹ کو لغو قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کمیشن جیسے کسی غیر ملکی ادارے کو اس کا حق حاصل نہیں ہے کہ بھارت میں آئینی طور پر محفوظ کیے گئے شہریوں کے حقوق کے بارے میں کوئی فیصلہ سنائے۔

Minderheiten in Indien

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جامع مسجد میں مسلم باشندے نماز ادا کرتے ہوئے


وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’’بھارت کا آئین تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ، جن میں اپنے مذہبی عقائد پر چلنے کا حق شامل ہے۔‘‘ سوروپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی ایک حالیہ رپورٹ کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے ،اس رپورٹ میں بھارت ، اس کے آئین اور اس معاشرے میں سمجھ کا فقدان بتایا گیا ہے۔ بھارت ایک پھلتا پھولتا، تکثریت پسند معاشرہ ہے، جس کی بنیاد مضبوط جمہوری اصولوں پر قائم ہے۔ بھارتی آئین مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے تمام شہریوں کو تمام بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اس کمیشن کو بھارتی شہریوں کی حالت پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اس لئے ہم لوگ اس رپورٹ پر کوئی کارروائی بھی نہیں کریں گے۔‘‘

خیال رہے کہ مذکورہ امریکی کمیشن کے اراکین کو مارچ میں بھارت آنے کے لئے ویزانہیں دیا گیا تھا اور دہلی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ملک میں اس قسم کی تحقیقات کرنے والے کسی ادارے کی ضرورت نہیں ہے۔ کمیشن نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ پولیس اور عدلیہ کو انسانی حقوق اورمذہبی آزادی کے تئیں زیادہ حساس بنایا جائے اور جن صوبوں میں تبدیلی مذہب پر پابندی کا قانون منظور کیا گیا ہے انہیں یا تو کالعدم قرار دیا جائے یا پھر ان میں مناسب ترمیم کرکے انہیں بین الاقوامی طو رپر تسلیم شدہ حقوق انسانی کے میعار کے مطابق بنایاجائے۔

DW.COM